بھارت

بھارت :بنارس میں مسلمان ٹیچر کواسکول میں حجاب پر پابندی، مذہبی تعصب کا سامنا

بنارس :بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہربنارس میں ایک مسلمان خاتون ٹیچر نے کہاہے کہ انہیں باربار مذہبی تعصب کا سامنا کرنا پڑا اور ایک نجی اسکول میں انہیں حجاب اتارنے یا ترک کرنے کے لیے کہا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ثمرین بانو نے سوشل میڈیا پرکئی ویڈیوز شیئر کیں جن میں کہا گیا کہ بدھا پبلک اسکول کی انتظامیہ نے انہیںکہا کہ حجاب اتاردیں یا نوکری چھوڑدیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے انٹرویو کے دوران ایسی کسی شرط کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن پرنسپل نے پہلے دن ہی اعتراض کیا۔اس سے پہلے ویڈیوزمیں ثمرین نے کہا کہ انہیں بار بار ملازمت کے دوران تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ لوگ مجھے ٹیوشن یا انٹرویو کے لیے بلاتے ہیں لیکن جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، تو وہ انکار کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم اساتذہ کے خلاف تعصب اتنا عام ہو گیا ہے کہ بچوں کو مسلمان اساتذہ کو جاننے سے پہلے ہی خوفزدہ کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان اساتذہ کبھی طلباءکو مذہب تبدیل کرنے کے لیے نہیں کہتے۔ انہوں نے آرٹیکل 19 اور 25 کے تحت آئینی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایاکہ اگر دوسرے لوگ اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں تو میرا حجاب کیوں مسئلہ بن جاتا ہے؟ایک ویڈیو کلپ میں ایک اسکول اہلکار کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر وہ اسکول کی پالیسی سے اختلاف کرتی ہے تو اسے چلے جانا چاہیے۔ اس واقعے نے مذہبی آزادی، اسکولوں میں ڈریس کوڈ اور کام کی جگہوں پر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک ماہر تعلیم نے کہاکہ تعلیمی اداروں کوایک ایسی جگہ ہوناچاہیے جہاں مذہبی شناخت سے زیادہ پیشہ ورانہ صلاحیت کی اہمیت ہو۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button