بھارت

ؓبھارت میں رواں سال ابتک نفرت انگیز جرائم میں 13 مسلمان قتل کئے گئے : رپورٹ

نئی دہلی: بھارت کی آٹھ ریاستوں میں2026 کے پہلے چار مہینوں میں ہندو انتہا پسندوںنے کم از کم 13 مسلمانوں کو قتل کیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں نے آٹھ ریاستوں میں مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز جرائم میںکم از کم 13 مسلمانوں کوجن میں دو خواتین، ایک 15 سالہ لڑکا اور ایک 65 سالہ شخص شامل ہے، قتل کیا۔ساو¿تھ ایشیا جسٹس کمپین کے ٹریکر نے ایک اور موت ریکارڈ کی جو کہ ہجومی تشدد کے شکار ایک شخص کی بیوی کی خودکشی تھی۔بی جے پی کے زیر اقتدارریاست بہار میں سب سے زیادہ 4 اموات اور ایک خودکشی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد ایک اور بی جے پی کی حکومت والی ریاست جھارکھنڈ اور اتر پردیش ہے۔اس دوران کم از کم چار مسلمانوں کو ریاستی عناصر نے قتل کیا۔ بی جے پی کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کے حکم پر اتر پردیش میں بھارتی پولیس نے جعلی مقابلوں میں دو مسلمان بھائیوں کو قتل کردیا۔بی جے پی کے زیر اقتدار دہلی میں ایک مسلمان شخص کو پولیس کی حراست میں تشدد کا نشانہ بناکرقتل کیاگیا۔یہ بات واضح ہے کہ بھارت میںمسلمانوںکو نماز پڑھنے اور رمضان کے روزے افطار کرنے جیسے کاموں پر بھی گرفتار کیا گیا۔اترپردیش کے علاقے محمد گنج میںایک خالی مکان میں نماز پڑھنے پر12مسلمانوں کو گرفتارکیاگیا۔ رمضان المبارک کے دوران 14 مسلمان نوجوانوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب انہوں نے دریائے گنگا میں ایک کشتی پر روزہ افطارکیا۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے ذریعے 13 ریاستوں میں 56 ملین سے زیادہ ووٹرز کو انتخابی فہرستوں سے نکال دیا گیاجن میں زیادہ تر مسلمان ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاکہ مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں سے حذف کیے گئے 34فیصد مسلمان تھے جبکہ کچھ کلیدی حلقوں میں یہ شرح95 فیصد ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے جنوری اور فروری 2026 کے درمیان کم از کم چھ تقریروں میں گھس بیٹھیے(درانداز) کی اصطلاح استعمال کی۔ بی جے پی کے رہنما اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی اس عرصے کے دوران کم از کم چھ تقریروں میں اسی طرح کی زبان استعمال کی۔سب سے خراب ریکارڈ بی جے پی کے زیر اقتدار آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کاہے جنہوں نے کھلے عام اعتراف کیا کہ کہ ایس آئی آر میںصرف بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کا مقصد انہیں تکلیف دیناہے۔7 فروری کو بی جے پی کے آفیشل آسام اکاو¿نٹ نے اے آئی سے تیار کردہ ایک ویڈیو شیئر کی جس میں ہمانتا بسوا سرما کو مسلمانوں پر نزدیک سے گولی مارتے ہوئے دکھایا گیاہے جس کا عنوان تھا”غیر ملکیوں سے پاک آسام“اور”آپ پاکستان کیوں نہیں جاتے؟“
آئی پی ٹی نے کہا کہ منی پور میں جاری نسلی تشددمیں دو بچوں سمیت کم از کم 15 تازہ اموات ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق متعدد کیسز میںایف آئی آر میں یا تو بنیادی جرم کو چھوڑ دیاگیا یا مجرموں کے بجائے متاثرین کے خلاف ہی مقدمہ درج کیا گیا۔فروری میںتشدد کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اور ماورائے عدالت قتل کے بارے میں خصوصی نمائندے نے بھارت میں پولیس کی ناکامیوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت میں خاص طورپر اترپردیش اور آسام میں پولیس کی طرف سے طاقت کا وحشیانہ اور مہلک استعمال کیا جارہا ہے جس میں مسلمانوں ، دلتوں اورآدی واسیوں کو نشانہ بنایاجاتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button