خلیجی خطے میں بھارت کا یو اے ای کو استعمال کرنا، مشرق وسطی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ

اسلام آباد: نریندر مودی کے حالیہ دورہ متحدہ امارت سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ بھارت خلیجی شراکت داریووں کو اپنے جغرافیائی و سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے جس سے علاقائی توازن اور مسلم اتحاد متاثر ہو سکتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے ساتھ بھارت کی بڑھتی ہوئی قربت ایک سوچی سمجھی کوشش دکھائی دیتی ہے جس کا مقصد خلیجی سیاست کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا ہے، لیکن یہ حکمتِ عملی خطے میں توازن پیدا کرنے کے بجائے مزید عدم استحکام بڑھا سکتی ہے۔بھارت توانائی کے تحفظ اور معاشی تعاون کی آڑ میں مغربی ایشیا کے نازک جغرافیائی و سیاسی منظرنامے میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے جس میں اسرائیل کے ساتھ متنازعہ اتحاد بھی شامل ہیں۔ ان تعلقات پر پہلے ہی مسلم اتحاد کو کمزور کرنے اور او آئی سی (OIC) کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے تنقید کی جا رہی ہے۔ بھارت کے ساتھ یو اے ای کی بڑھتی ہوئی قربت اس حقیقت کا متبادل نہیں بن سکتی کہ ابوظہبی اب بھی تیل کی پالیسی، سیکیورٹی تعاون اور مذہبی قیادت کے معاملات میں سعودی عرب پر بنیادی انحصار رکھتا ہے۔ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے اندر ابھرتے ہوئے اختلافات — جو یمن، سوڈان اور اوپیک (OPEC) کے معاملات میں واضح نظر آتے ہیں — اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ابوظہبی، ریاض کے مرکزی کردار کی جگہ نہیں لے سکتا۔ بھارت کی شمولیت اس تقسیم اور اختلافات کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ بھارت خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے مضبوط اسٹریٹیجک اور نظریاتی تعلقات کی نقل نہیں کر سکتا۔پاکستان کا فوجی تعاون، جغرافیائی قربت اور خلیجی معاشروں کے ساتھ اس کا گہرا اسلامی و تاریخی رشتہ اب بھی قائم ودائمہے۔پاکستان کو پسِ پشت ڈالنے کی کوششیں کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک اور قریبی تعاون کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہیں۔ اگرچہ بھارت اور یو اے ای کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھارتی تارکینِ وطن کی بڑی آبادی سے متعلق آبادیاتی دباو¿ اور مزدوروں سے متعلق تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ یو اے ای کو ایک جغرافیائی و سیاسی آلے کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی حکمتِ عملی ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے، علاقائی اتحادوں میں تقسیم اور مشرقِ وسطیٰ کے طویل المدتی استحکام کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔







