بھارت

بھارت :آندھرا پردیش میں پولیس نے مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا: رپورٹ

نئی دہلی: نئی دہلی میں قائم شہری حقوق کی ایک معروف تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے کہا ہے کہ ریاست آندھرا پردیش میں پولیس نے رواں ماہ کے شروع میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد مسلمانوں کے خلاف امتیازی کارروائیاں کی ہیں جن میں غیر قانونی گرفتاریاں، دوران حراست تشدد اور مقدمات کا اندراج شامل ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے حقائق پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران 9 مئی کو کڑپہ شہر کے الماسپیٹ سرکل میں تشدد کے دوران اور اس کے بعد مسلمانوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے شواہد ملے ہیں۔ رپورٹ متاثرہ علاقوں کے دوروں،متاثرین کے انٹرویوز ،پولیس میں درج شکایات، ریمانڈ دستاویزات اور دیگر سرکاری ریکارڈپر مبنی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کڑپہ میں ٹریفک سرکل کا نام 18ویں صدی کے مسلمان حکمران اور نوآبادیاتی مخالف شخصیت ٹیپو سلطان یا ہندو دیوتا ہنومان کے نام پر رکھنے کی مہم کے بعد کشیدگی پیدا ہوئی۔دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں نے”ٹیپو سلطان سرکل“ کی میونسپل تجویز کے باوجود غیرقانونی طورپر”ہنومان سرکل“ کے بینرز لگائے جس کے بعد صورت حال مزیدبگڑ گئی۔ اے پی سی آر نے کہا کہ کشیدگی کے بعد پولیس کی کارروا ئی میں چن چن مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 25 کمسن مسلمان بچوں کوحراست میں لیا گیا اور مارا پیٹا گیا، جبکہ 22 مسلمان افراد کو بغیر وارنٹ کے کئی دنوں تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جن متاثرین اورعینی شاہدین کے انٹرویوز کئے گئے ، انہوں نے دوران حراست مار پیٹ، دھمکیوں اور قانونی حقوق سے محرومی کی تصدیق کی۔حقائق تلاش کرنے والی ٹیم کو پتہ چلا کہ مسلمان باشندوں کو سنگین غیر ضمانتی جرائم سمیت سخت فوجداری مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بدامنی میں ملوث غیر مسلم افراد کے خلاف قانون کی نسبتاً ہلکی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ہجوم کے منتشر ہونے کے بعد بھی پولیس نے مسلم اکثریتی محلوں کے اندر جارحانہ لاٹھی چارج کیاجو اجتماعی سزاکے مترادف ہے۔ اے پی سی آر نے کہا کہ انتظامیہ نے ہندو قوم پرست گروپوں کی اشتعال انگیزی کے خلاف فوری کارروائی نہیں کی۔ تنظیم نے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک آزاد عدالتی یا مجسٹریل انکوائری، نابالغوں سے متعلق مقدمات کا جائزہ لینے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس ریکارڈ کی فرانزک جانچ، اور حراستی تشدد اور امتیازی سلوک میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے خبردارکیا کہ استثنیٰ جاری رکھنے سے فرقہ وارانہ تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button