بھارت :نریندر مودی سے سوال کرنے والی نارویجین صحافی ٹرولنگ اور ذاتی حملوں کی زد میں

نئی دہلی:ناروے کی صحافی ہیلی لیونگ کی جانب سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے پریس کی آزادی اور سوالوں کے جواب دینے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ٹرولنگ، ذاتی حملے اور کردار کشی کی مہم تیز ہو گئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انہیں ’اینٹی انڈیا‘، ’سیاسی ایجنٹ‘، ’اسپانسرڈ صحافی‘ اور ’پروپیگنڈہ کرنے والی‘ کہا جا رہا ہے۔اس پوری مہم میں سوشل میڈیاپر صرف بھارتی حکومت کے حامی ہینڈل ہی نہیں بلکہ بھارتی میڈیا کے کچھ معروف نام بھی شامل ہیں۔یہ معاملہ اس وقت شروع ہو جب سوموار 18 مئی کو اوسلو میں نریندر مودی اور ناروے کے وزیراعظم کے مشترکہ پریس بیان کے بعد ناروے کے اخبار دگساویسن کی صحافی ہیلی لیونگ نے مودی سے سوال پوچھا کہ وزیراعظم مودی آپ دنیا کے سب سے آزاد پریس کے سوال کیوں نہیں لیتے؟مودی نے اس سوال کا جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گئے۔ بعد میں لیونگ نے بھارتی وزارت خارجہ کی پریس بریفنگ میں بھی پریس کی آزادی اور انسانی حقوق سے متعلق سوال اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہاں بھی انہیں سیدھا جواب نہیں ملا۔اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ردعمل کا سیلاب آ گیا۔ دائیں بازو کے ہندو انتہاپسندوں نے ان کے پیشہ ورانہ کام کے بجائے ان کی ساکھ، ذاتی زندگی اور نیت پر سوال اٹھانے شروع کر دیے۔بی جے پی حامی ایکس ہینڈل’ان کاگ نیٹو‘ نے انہیں ’بے ایمان صحافت‘ کی مثال قرار دیتے ہوئے ان کے اخبار دگساویسن کو ’چھوٹا اور غیر اہم‘ بتایا۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایسے اخبار کو اس قسم کے پروگراموں میں مدعو نہیں کیا جاتا اور لیونگ سیاسی ایجنٹوں کی بھیجی ہوئی ہو سکتی ہیں۔ پوسٹ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ ان کا سوال صحافت نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند مداخلت تھا۔دائیں بازو کی ویب سائٹ اوپ انڈیا نے بھی ایک مضمون میں سوال اٹھایا کہ کیا یہ صحافت تھی یا مودی کے ناروے دورے کے دوران کیا گیا ایک منصوبہ بند بھارت مخالف تماشا؟‘ مضمون میں لیونگ کے سوشل میڈیا پروفائل، ان کے فالوورز اور دیگر صحافیوں کے ساتھ ان کے آن لائن روابط کا حوالہ دے کر شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ایک اور سوشل میڈیا صارف میگھنا نے دعویٰ کیا کہ لیونگ وزیراعظم مودی کے دورے کا استعمال اپنے سوشل میڈیا فالوورز بڑھانے کے لیے کر رہی ہیں۔اس دوران بھارتی ٹی وی میڈیا کے کچھ نمایاں چہرے بھی اس بحث میں شامل ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ لیونگ نے اپنے گزشتہ چار سالہ کیریئر میں کبھی پریس کی آزادی یا میڈیا سنسرشپ جیسے موضوعات پر سوال نہیں اٹھائے ، لیکن اچانک مودی کے معاملے میں سرگرم ہو گئی ہیں۔ بھارت کے سرکار ی نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں کہا گیاکہ ہیلی لیونگ کا رویہ صحافی جیسا کم اور ایکٹوسٹ جیسا زیادہ تھا۔تنقید کا دائرہ صرف پیشہ ورانہ اختلاف تک محدود نہیں رہا۔ کچھ ردعمل براہ راست ذاتی حملوں اور کردار کشی تک جا پہنچے۔ ہیلی لیونگ کی نجی تصویریںشیئر جارہی ہیں جس پرایک بھارتی صحافی راکیش پاٹھک نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیر اعظم سے سوال پوچھنا ایسا جرم ہے جس کے لیے کسی خاتون صحافی کی نجی زندگی اور لباس کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا اختلاف رائے کا حق آپ کو حاصل ہے، لیکن کسی خاتون کی کردار کشی کرنا نامناسب ہے۔ صحافی اجیت انجم نے بھی کردارکشی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ جگدیش ا±پاسنے نام کا یہ آدمی انڈیا ٹوڈے جیسی میگزین کا ایڈیٹر رہ چکا ہے اور بی جے پی راج میں آر ایس ایس کا منظور نظر ماکھن لال یونیورسٹی آف جرنلزم کا وائس چانسلر بھی بنا۔ کٹرسنگھی اور انتہائی نفرت پھیلانے والا شخص ہے۔ بیٹی کی عمر کی لڑکی کے بارے میں کتنی گھٹیا پوسٹ کر رہا ہے۔ ناروے کی اس لڑکی رپورٹر کے پیچھے اس حد تک پڑ گئے ہیں کیونکہ اس نے مودی سے ایک سوال پوچھ لیا؟ اگر بڑھاپے میں اتنی پستی ہے تو پہلے کتنے رہے ہو گے؟ کئی صحافیوں اور عوامی شخصیات نے ہیلی لیونگ کی حمایت میں آواز اٹھائی۔
فرنٹ لائن کی مدیر ویشنا رائے نے لکھاکہ ہیلی لیونگ کو جس طرح ٹرول کیا جا رہا ہے، وہی بھارت میں آزادی صحافت کے سوال کا سب سے بڑا جواب ہے۔ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے لکھا کہ حکومت کے حامی ٹرول اب ان کی ذاتی معلومات بھی آن لائن شیئر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مودی نے بھارت کواس حالت تک پہنچا دیا ہے۔فیکٹ چیکر محمد زبیر نے کہا کہ دائیں بازو کے ٹرولز لیونگ کا فون نمبر اور گھر کا پتہ آن لائن شیئر کر رہے ہیں۔ ہیلی لیونگ نے بڑھتے ہوئے ردعمل کے درمیان سوشل میڈیا پر لکھاکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یہ لکھنا پڑے گا، لیکن میں کسی غیر ملکی حکومت کی جاسوس نہیں صرف ایک صحافی ہوں۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال پوچھنے والی کسی غیر ملکی صحافی کو اس طرح کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ 2023 میں وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی سبرینا صدیقی نے واشنگٹن میں مودی سے اقلیتوں اور آزادی اظہار پر سوال کیا تھا جس کے بعد انہیں بھی سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ اور حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس بار بھی بحث صرف اس بات پر نہیں ہے کہ ہیلی لیونگ کا سوال مناسب تھا یا نہیں۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا کسی صحافی کے سوال کا جواب بحث اور حقائق سے دیا جائے گا، یا پھر اس کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کو نشانہ بنا کر اس کی ساکھ پر حملہ کیا جائے گا۔





