مقبوضہ جموں و کشمیر

عمر عبداللہ کے دعوے تاریخی حقائق نہیں بدل سکتے، مسئلہ کشمیر آج بھی زندہ ہے،ڈی ایف پی

اسلام آباد:جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کے 15 اگست کے خطاب پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمر عبداللہ کو تاریخ کے حقائق کو اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق پیش کرنے کے بجائے اپنے خاندان اور جماعت کے تاریخی کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے اسلام آباد میں جاری ایک بیان میں کہا ک مسئلہ جموں و کشمیر آج بھی حل طلب ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کشمیری عوام کو گزشتہ کئی دہائیوں سے ان کے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا گیا ہے۔ا نہوں نے عمر عبداللہ کے اس دعوے کہ 1947 میں جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ درست تھاکو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ یہ دعویٰ نہ تو کشمیری عوام کی اجتماعی خواہش کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ محض اقتدار کی سیاست کے تحت 1947 کے فیصلے کو حتمی اور ناقابلِ سوال قرار دینا تاریخی تضادات کو چھپانے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ 1947 کے دوران جموں خطے میں مسلمانوں کے قتلِ عام اور جبری بے دخلی کے واقعات کشمیری تاریخ کا ایک المناک باب ہیں، جنہیں کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع، گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، تشدد، سیاسی قیادت کی قید اور بنیادی حقوق کی پامالی اس امر کا ثبوت ہیں کہ محض آئینی دعوے کرنے سے زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ارشداقبال نے عمر عبداللہ سے سوال کیا کہ اگر وہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب کے لوگوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی جیلوں میں قید کشمیری سیاسی رہنماؤں اور نوجوانوں کی حالت بھی دیکھنی چاہیے۔ شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی اور دیگرحریت رہنما برسوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ کیا ان لوگوں کا حقِ آزادی اور سیاسی اختلاف بھی عمر عبداللہ کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا ایل او سی کے دوسری جانب کے لوگوں کا؟ارشد اقبال نے کہا کہ عمر عبداللہ کو یہ وضاحت بھی کرنی چاہیے کہ اگر ان کے نزدیک مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہے تو پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت کا کیا مطلب ہے؟انہوں نے واضح کیاکہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ طاقت، جبر یا یکطرفہ آئینی اقدامات سے نہیں بلکہ کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولِ حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگست 2019 میں بھارتی حکومت کی جانب سے دفعہ370 اور 35-A کی منسوخی کے یکطرفہ اقدامات نے مسئلہ کشمیر کو ختم نہیں کیا بلکہ مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ کشمیری عوام کے سیاسی، آئینی اور بنیادی حقوق کو محدود کرکے یہ دعویٰ کرنا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ ارشد اقبال نے کہا کہ عمر عبداللہ کو دوسروں کے سیاسی مستقبل پر قیاس آرائیاں کرنے کے بجائے پہلے اپنے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں سیاسی آزادی، انسانی حقوق، اظہارِ رائے اور اختلافِ رائے کے حق کی صورتحال پر بات کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کسی ایک خاندان، جماعت یا حکومت کے تابع نہیں بلکہ اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کے مالک ہیں۔ نیشنل کانفرنس ہو یا کوئی دوسری سیاسی جماعت، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کشمیری عوام کی اجتماعی مرضی کی جگہ اپنی سیاسی تشریح کو حتمی فیصلہ قرار دے۔انہوں نے واضح کیا کہ جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے سیاسی و سفارتی ذرائع، بامعنی مذاکرات اور کشمیری عوام کی حقیقی شمولیت کی حمایت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ اور ان کی جماعت کو تاریخ کے صفحات سے اپنی پسند کے اقتباسات لینے کے بجائے مکمل تاریخ کا سامنا کرنا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر نہ 1947 میں ختم ہوا تھا، نہ 2019 میں اور نہ ہی آج ختم ہوا ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو ان کے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جائے گا، مسئلہ کشمیر زندہ رہے گا اور اس کا منصفانہ حل ناگزیر رہے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button