بھارت: بی جے پی حکومت جنوبی ریاستوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کررہی ہے

نئی دہلی: بھارت میں مجوزہ آئینی ترمیم اور نئی حلقہ بندیوںپر شمال اور جنوب کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں اوربی جے پی حکومت سیاسی طاقت کا توازن شمال کی طرف منتقل کرنے اور جنوبی ریاستوں کے وسائلپر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جنوبی بھارت کے لوگ مردم شماری اور حلقہ بندی کے عمل پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی کم ہو جائے گی اور ان پرشمالی ثقافت مسلط کی جائے گی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ریاستوں کو اچھی کارکردگی کی سزا دی جا رہی ہے اور معاشی ترقی، آبادی پر کنٹرول اور سماجی شعبوں میں کامیابی کے باوجودان کو نشانہ بنایاجارہا ہے جبکہ کم ترقی یافتہ شمالی ریاستوں کو زیادہ سیاسی طاقت دے کر بی جے پی اپنا اثر بڑھانا چاہتی ہے۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت زیادہ تر ہندی بولنے والے شمالی علاقوں کی حمایت پر کھڑی ہے اور حلقہ بندی کو استعمال کرکے شمال میں اپنی طاقت مضبوط کرنا چاہتی ہے، جبکہ جنوبی ریاستوں کو بی جے پی کی حمایت نہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔مبصرین کاکہنا ہے کہ جنوبی ریاستوں کی آواز کو دبانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے،حلقہ بندی کو بی جے پی کے حق میں سیاسی کھیل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ طاقت شمال میں محدود رہے اور جنوب کو مستقل طور پر کمزور کیا جا سکے۔ جنوبی ریاستوں کے خدشات پر خاموش اور شمالی مطالبات پر سرگرم بی جے پی جنوبی بھارت کے سیاسی اثر کو کم کرنا چاہتی ہے۔ ہندی زبان کے نفاذ، تعلیمی نظام کو مرکز کے تابع کرنے اور انتخابی تبدیلیوں سے ثقافتی برتری کا ایجنڈا واضح نظر آتا ہے۔ وفاقی نظام دباو¿ کا شکار ہے، بی جے پی حکومت جنوبی ریاستوں کی خودمختاری کمزور کرکے انہیں شمالی بالادستی کے تحت لانے اور ثقافتی دباو¿ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔







