بھارت کی معاشی ترقی کامودی حکومت کا من گھڑت بیانیہ بے نقاب
نئی دہلی: نریندرمودی کی ناقص معاشی پالیسیوں سے بھارتی معیشت شدید دباو¿ کا شکار ہے جبکہ معاشی ترقی کا من گھڑت بیانیہ بے نقاب ہوچکا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نام نہاد 4 ٹریلین ڈالر کی معاشی طاقت کے دعویدار بھارت کو ایک علاقائی جنگ نے شدید بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ مودی حکومت نے بھارتی معیشت کی موجودہ سنگین صورتحال کا ملبہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ڈال دیا۔بھارتی جریدے” فرنٹ لائن“ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مودی نے بدحال صنعت، تجارتی خسارے اور تکنیکی تنزلی کے بعد معاشی بحران کا بوجھ بھارتی مزدور طبقے پر منتقل کر دیا ہے۔فرنٹ لائن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بی جے پی نے امریکی تجارتی معاہدے کے لیے روسی تیل کی خریداری محدود کر کے معاشی خودمختاری پر سمجھوتا کیا۔ مودی نے اسرائیل سے دفاعی معاہدوں کے لیے ایران جیسے آزمودہ اتحادی کو نظرانداز کر دیا۔رپورٹ کے مطابق بھارتی عوام نااہل حکمران اشرافیہ کی سیاسی غداریوں کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ بھارت میں خوراک، ایندھن اور کھاد سبسڈی کا حصہ 2016-17 میں 11.7 فیصد سے کم ہو کر-25 2024 میں صرف 7.9 فیصد رہ گیا ہے اور کارپوریٹ سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 13.36 فیصد سے کم ہو کر 11.24 فیصد پر آگئی ہے۔عالمی ماہرین کے مطابق مودی حکومت نے وقتی سیاسی فائدے کے لیے عوام، مزدور طبقے اور ریاستی اداروں پر مسلسل معاشی دباو¿ ڈال دیا ہے۔ بھارتی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور تجارتی خسارے نے مودی کی نام نہاد تیسری بڑی معیشت کا پہیہ جام کر دیا ہے۔







