کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیر اہتمام دعائیہ مجلس کا انعقاد

اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے کنوینر غلام محمد صفی کی زیرقیادت ایک دعائیہ مجلس کا انعقاد کیا جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت خطے میں پیش آنے والے مختلف حادثات اور واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دعائیہ مجلس میں مظفرآباد میں بھارتی خفیہ نیٹ ورکس اور ریاستی دہشت گردی کے تسلسل میں کشمیری نوجوان حمزہ برہان کی ٹارگٹ کلنگ پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ مقررین نے اس واقعے کو نہایت افسوسناک، قابلِ مذمت اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی جارحانہ پالیسیوں اور خفیہ کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ آزاد کشمیر میں بھی خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شرکاءنے اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا۔
مقررین نے کئی سال پہلے شوپیاں میں دو معصوم کشمیری خواتین آسیہ اور نیلوفر کی بے حرمتی اورشہادت کو کشمیری تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ نہ صرف کشمیری خواتین کے وقار، عزت اور بنیادی انسانی حقوق پر حملہ بلکہ بھارتی فورسز کے ظلم و استبداد اور جوابدہی سے مکمل استثنیٰ کا واضح ثبوت بھی ہے۔ انہوں نے آسیہ اورنیلوفر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام آج بھی اس دردناک سانحے کو نہیں بھولے اور وہ انصاف کے منتظر ہیں۔
دعائیہ مجلس میں تحریکِ آزادی کشمیر کی عظیم دینی، فکری اور سیاسی شخصیت اور سابق امیر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر شیخ محمد حسن کی رحلت پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے مرحوم کی دینی، قومی اور تحریکی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے، کشمیری عوام کی رہنمائی کرنے اور حق و انصاف کی جدوجہد کے لیے وقف کردی تھی۔ مجلس میں مرحوم کے درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی خصوصی دعا کی گئی۔
کنوینر غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس وقت خوف، جبر اور ریاستی دباو¿ کا ایسا ماحول قائم کیا جا چکا ہے جہاں کشمیری عوام کو حق بات کہنے، اپنے سیاسی نظریات کے اظہار، یا حقِ خودارادیت کی حمایت میں لب کشائی تک کی آزادی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حریت قیادت، سیاسی کارکنان، نوجوانوں، علمائے کرام، صحافیوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد پر مسلسل دباو¿ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بھارت کی جبری حاکمیت اور غیر قانونی قبضے کو تسلیم کریں، تاہم کشمیری قیادت نے تمام تر ریاستی جبر، قید و بند، دھمکیوں، انتقامی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے باوجود اپنے اصولی موقف، قومی تشخص اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد پر ثابت قدم رہ کر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ کشمیری عوام اپنے بنیادی حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔غلام محمد صفی نے کہا کہ تحریکِ آزادی کشمیر محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں بلکہ ایک قوم کی آزادی کی جدوجہد ہے، جس کے لیے کشمیری عوام نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہم سب پر یہ قومی و دینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تحریکِ آزادی کشمیر کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے جو بھی سیاسی، سفارتی، اخلاقی، ابلاغی اور عوامی سطح پر ممکن ہو، اسے پوری سنجیدگی، اتحاد اور مستقل مزاجی کے ساتھ بروئے کار لایا جائے۔انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور انصاف پسند اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ریاستی دہشت گردی، خواتین کے خلاف جرائم، ماورائے عدالت قتل، سیاسی انتقام اور اظہارِ رائے پر عائد پابندیوں کا فوری نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے مو¿ثر کردار ادا کریں۔
دعائیہ مجلس کے اختتام پر شہداءکشمیر اور حالیہ سانحات و حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد سمیت پوری امتِ مسلمہ خصوصاً مظلوم کشمیری عوام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ مجلس میں دیگر لوگوں کے علاوہ سینئر حریت رہنما ،محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم ، جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ پرویز احمد ،سیکریٹر اطلاعات مشتاق احمد بٹ، میر طاہر مسعود،الطاف حسین وانی، شیخ محمد یعقوب ، شمیم شال ، راجہ خادم حسین ، نثار مرزا ، سید کفایت رضوی ، جاوید بٹ ، داو¿د خان، چوہدری شاہین ، زاہد صفی ،حاجی محمد سلطان، ،شیخ عبد المتین ، سید اعجاز رحمانی،امتیاز وانی ،میاں مظفر، محمد شفیع ڈار ،عبد المجید لون، شیخ عبد الماجد ، منظور ڈار،سید گلشن، نذیر کرناہی، عدیل مشتاق اور اشرف ڈار نے بھی شرکت کی۔






