بھارت سفارتی تنہائی سے بچنے کیلئے پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کرے:پروین ساہنی
نئی دلی: سینئر بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے مودی حکومت پر زور دیا ہے کہ سفارتی طور پر تنہا ہونے سے بچنے کے لیے آئندہ سربراہی اجلاس میں پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کرے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پروین ساہنی نے اپنے ایک حالیہ وی لاگ میں عالمی نظام میں بڑی تبدیلی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سفارتی گفتگو کا آغاز اب بھارت کے مفاد میں ہے۔بھارت خطے میں تنہا ہوتا جا رہا ہے کیونکہ امریکا اور چین اسٹریٹجک استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس تبدیلی نے چار فریقی سیکورٹی ڈائیلاگ کے امکانات کو کم کر دیا ہے یعنی خطے میں بھارت کے متوقع کردار کو کم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے تاکہ تجارت اور رابطوں پر مرکوز ایک نیا جنوبی ایشیائی علاقائی گروپ تشکیل دیا جا سکے جو اس خطے میں سارک کی جانب سے چھوڑے گئے خلا کو پر کر سکے۔پروین ساہنی نے کہا کہ اب چونکہ بیشتر جنوبی ایشیائی ممالک پہلے ہی چین کیبیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پراجیکٹ کا حصہ بن چکے ہیں، تو ایسی صورتِ حال میں جغرافیائی اور اقتصادی دائرے میں بھارت کے تنہا ہو جانے کا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سفارت کاری کا ایک اہم امتحان آئندہ برکس سربراہی اجلاس میں ہو گا، جہاں چین متوقع طور پر پاکستان کو برکس میں شامل کرنے کی تجویز پیش کر سکتا ہے۔ برکس کے موجودہ 11 میں سے 8 ممبران پہلے ہی پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کے لیے تیار ہیں، جن میں روس، انڈونیشیا، ایران، مصر، برازیل، سعودی عرب، جنوبی افریقا اور خود چین شامل ہے۔انہوں نے مودی حکومت کوخبردار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو خطے میں تنہا ہونے سے بچانا ہے تو اس اہم موقع کا فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی گفتگو کے راستے کھلیں گے، تعلقات معمول پر آئیں گے اور عالمی نظام میں تیزی سے رونما ہوتی بڑی تبدیلی کے درمیان بھارت کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔اس حقیقت کو امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی جانب سے پینٹاگون کی حالیہ بجٹ پیش کش کے دوران بھی اجاگر کیا گیاہے۔







