لداخ

لہہ ایپکس باڈی کا بھارتی وزارتِ داخلہ کے ساتھ یکطرفہ ترمیم شدہ معاہدے پر دستخط سے انکار

 

لہہ:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ کے ضلع لہہ کی نمائندہ سول سوسائٹی تنظیم لہہ ایپکس باڈی نے بھارتی وزارتِ داخلہ کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے بعد تیار کردہ اجلاس کے منٹس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ دستاویز میں ایک اہم متفقہ نکتہ شامل نہیں کیا گیا، جس کے باعث اس پر دستخط ممکن نہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لہہ ایپکس باڈی کے شریک چیئرمین چیرنگ ڈورجے لاکروک نے کہا ہے کہ 22مئی کو نئی دلی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ چیف سیکریٹری کی سطح کے افسران کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ لداخ کی منتخب نمائندہ باڈی تیار کرے گی، تاہم یہ نکتہ جاری کردہ دستاویز سے غائب ہے۔چیرنگ ڈورجے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دستاویز پر دستخط نہیں کر سکتے جس میں مذاکرات کے دوران طے پانے والے اہم نکات کو شامل نہ کیا گیا ہو۔ ان کامزید کہنا تھا کہ مذکورہ تجویز خود بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی تھی، لہذا وزارت کو اتفاقِ رائے سے طے شدہ معاملات میں یکطرفہ تبدیلی یا انہیں حذف نہیں کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ لہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے بھارتی حکومت کے ساتھ ایک اصولی مفاہمت کا اعلان کیا تھا۔ اس مفاہمت کے تحت لداخ کے لیے جمہوری اختیارات کی بحالی، ریاستی درجہ اور آئینی تحفظات کے مطالبات پر پیش رفت کی امید ظاہر کی گئی تھی۔لہہ ایپکس باڈی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران طے پانے والی شرائط میں رد و بدل نہ کیا جائے اور حکومت ان نکات کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے معاہدے کے باضابطہ نفاذ کو یقینی بنائے۔ تنظیم کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ لداخ کے عوام خطے کے سیاسی، انتظامی اور آئینی حقوق سے متعلق وعدوں پر عملی پیش رفت کے منتظر ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ اختلافات لداخ اور نئی دلی کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کے لیے ایک اہم آزمائش ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ خطے کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق مباحث بھی مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button