لداخیوں کا 30 رکنی قانون ساز اسمبلی، خطے کے لئے ریاستی درجے کا مطالبہ
لہہ: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں لداخ خطے کی نمائندہ تنظیموں لہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لداخ کے دیرینہ سیاسی مطالبات کو فوری طور پر پورا کرے جن میں 30رکنی قانون ساز اسمبلی کا قیام اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت خطے کے لئے ریاستی درجہ شامل ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ”چھٹے شیڈول کی دفعات اور ریاستی درجے کا مقدمہ” کے عنوان سے لداخ کے لیے فریم ورک کا مسودہ بھارتی وزارت داخلہ کو ای میل کیاگیاتھا۔لہہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے ایک مجوزہ اسٹیٹ آف لداخ ایکٹ 2025بھی پیش کیا ہے جس میں 30 نشستوں پر مشتمل قانون ساز اسمبلی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس میں28نشستیں درجہ فہرست قبائل کے لیے مخصوص ہوں گی۔ مسودے میں سفارش کی گئی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور لداخ کے لیے موجودہ ہائی کورٹ کو ایک مشترکہ عدالتی ادارے کے طور پر جاری رہنا چاہیے۔ مسودے میں موجودہ پہاڑی ترقیاتی کونسلوں کی جگہ لہہ اور کرگل کے لیے خود مختار ضلع کونسلوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ ڈورجے لاکروک نے لہہ میں صحافیوں کو بتایا کہ مشترکہ مسودے میں ان بنیادی مطالبات کو شامل کیاگیا ہے جو دونوں تنظیموں نے بھارتی حکام کے سامنے باربار اٹھائے ہیں، ان میںمکمل ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کا نفاذشامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن اور ڈومیسائل رولز سے متعلق مسائل کو انتظامیہ نے پہلے ہی طے کر لیا ہے۔تنظیموں نے کالے قانون قومی سلامتی ایکٹ کے تحت نظربند ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک سمیت لہہ میں 24ستمبر کے پرتشدد واقعات کے بعد گرفتار ہونے والے تمام افراد کے لیے عام معافی کا مطالبہ کیا ۔ ان پرتشدد واقعات میں چار شہری ہلاک اوربھارتی فورسزاہلکاروں سمیت نوے کے قریب زخمی ہوئے تھے۔لہہ اپیکس باڈی کی یوتھ ونگ کی اپیل پرکی گئی ہڑتال کے دوران سرکاری دفاتر، ہل کونسل کی املاک اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔24ستمبرکے پرتشدد واقعات کے بعددونوں تنظیموں کی طرف سے نئی دہلی اور لداخ کے درمیان 6اکتوبر کو ہونے والی میٹنگ کے بائیکاٹ کے بعد مذاکرات کا سلسلہ رک گیا۔ بات چیت 22 اکتوبر کو دوبارہ شروع ہوئی جب بھارتی وزارت داخلہ نے تشدد کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کریں گے۔لداخ کی تنظیموں نے کہا کہ جب تک جمہوریت کی بحالی، آئینی ضمانتوں اور عام معافی کے ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، خطے کو سیاسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہے گا۔








