مودی کی ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا بھارت سے تیزی سے انخلا
نئی دلی: عالمی جریدے بلومبرگ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا بھارتی اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق رپورٹ میں مزید کہاگیاہے کہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ 10 برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے جس نے مودی سرکار کے معاشی دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔بھارت کے نیشنل سکیورٹیز ڈپازٹری لمیٹڈ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں مجموعی طورپرغیر ملکی سرمایہ کاری 7.3ٹریلین روپے تک گر چکی ہے جو کہ سال 2016کے بعد سے اب تک کی سب سے کم سطح ہے۔ اس معاشی گراوٹ سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔بلومبرگ کے تجزیے کے مطابق بھارتی اسٹاک مارکیٹ اب عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی منڈیوں میں اپنی سابقہ اہمیت کھو چکی ہے۔ گزشتہ 3برس کے دوران پہلی بار تائیوان اور جنوبی کوریا کی معیشتوں نے بھارت کو پیچھے چھوڑ کر عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔اعداد و شمارکے مطابق کئی بڑی بھارتی کمپنیوں میں عالمی فنڈز کی شرح جو پہلے 20فیصد تک تھی اب کم ہو کر 15فیصد پر آ چکی ہے۔اس گراوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی کی ناقص مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے بڑے سرمایہ کار اب بھارت سے اپنا پیسہ نکالنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور علاقائی جنگی صورتحال نے بھارت کے معاشی مستقبل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس غیر یقینی کیفیت نے عالمی منڈیوں میں بھارت کی ساکھ کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار اب متبادل منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق وزیر اعظم مودی کی کمزور معاشی پالیسیوں نے اسٹاک مارکیٹ کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ملکی صنعتوں کو درپیش مسائل اور بیرونی دبا کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے جس سے بھارتی معیشت مزید دبا ئوکا شکار ہو سکتی ہے۔






