شدید سردی کے باوجود اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم میں ہزاروں افراد کی شرکت

اوٹاوا:کینیڈاسمیت مختلف ممالک سے ہزاروں سکھوں نے شدید سردی کے باوجود اتوار کے روزاوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم میں شرکت کی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقررہ پولنگ سٹیشنوں کے باہر ووٹروںکی لمبی قطاریں دیکھی گئیں جہاں سکھ مرد، خواتین اور نوجوان بڑی تعداد میں نجی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں پہنچے تھے۔ اوٹاوا کی سڑکوں کو خالصتانی جھنڈوں سے سجایا گیاتھااورپورے شہر میںایک خودمختار خالصتان کے حق میں نعرے گونجتے رہے۔ ووٹنگ کا عمل صبح 11بجے سے سہ پہر 3بجے تک جاری رہا۔منتظمین کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم میںاس مرکزی سوال پر عوام کی رائے طلب کی گئی ہے کہ” کیا بھارتی پنجاب کو ایک آزاد ملک بننا چاہیے؟”انہوں نے کہا کہ بھاری ٹرن آئوٹ اپنے جمہوری حقوق کے لیے سکھوں کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ کینیڈامیں تقریبا 800,000سکھ رہتے ہیں اور اوٹاوا میں جو جوش و خروش دیکھا گیا اسے غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے۔شام کو سکھ خاندانوں نے نومبر 1984کے قتل عام کے متاثرین کی یاد میں اوٹاوا میں ایک دعا ئیہ تقریب میں شرکت کی ۔ قتل عام میں بھارتی افواج اور ریاستی سرپرستی میں ہندو انتہاپسندوں نے 30ہزار کے قریب سکھوں کو قتل کیا تھا۔ مقررین نے یاد دلایا کہ آپریشن بلیو سٹار سمیت بھارتی مظالم کی وجہ سے لاکھوں سکھوں کو زبردستی بے گھر کر دیا گیا جو بھارت کے جمہوری چہرے پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔عالمی سطح پرخالصتان ریفرنڈم کا سلسلہ تیز ہورہا ہے۔ 2021 سے آٹھ ممالک میں خالصتان ریفرنڈم پرامن طریقے سے کرائے جا چکے ہیں۔ اگست 2025میں امریکی حکام نے سکھوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی میں ریفرنڈم کرانے کی اجازت دی۔ بھارتی دبا ئواور پروپیگنڈے کے باوجود کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیاسمیت مغربی حکومتوں نے سکھ کارکنوں کو نشانہ بنانے والے بھارتی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا ہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک نے خالصتان ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ کئی مغربی ممالک کی عدالتوں نے سکھ رہنمائوں کی حوالگی کے لیے بھارت کی درخواستوں کو بار بار مسترد کر تے ہوئے کہا کہ سکھ برادری کی تحریک بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر ایک پرامن جمہوری مہم ہے۔اوٹاوا سے سکھ تارکین وطن کا پیغام واضح ہے کہ وہ پرامن اور قانونی ذرائع سے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ، خالصتان کے لیے جدوجہد ایک عالمی سیاسی تحریک ہے اور لاکھوں سکھ انصاف، وقار اور حق خود ارادیت کے لیے پرعزم ہیں۔




