بھارت: کیرالہ میں مسلمان طلباءکو اسکول میں داخلہ دینے سے انکار

نئی دہلی:بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک ہیڈ مسٹریس نے تقریباً 30 مسلمان طلباءکو داخلہ دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ بھارت کے تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کو کس طرح امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر سی ٹی ایپن میموریل آر ایچ ایس سکول کی ہیڈ مسٹریس نے والدین سے کہا کہ ا سکول میں مسلمانوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے… سفید لباس میں ملبوس بچوں کو داخلہ نہیں دیا جائے گا۔تقریباً 30 مسلم طالب علموں کو اساتذہ کی درخواستوں کے باوجود داخلہ دینے سے انکار کر دیا گیا۔ شکایت کنندگان کا کہنا تھا کہ اسکول انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو شکایت کرنے کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔اسکول میں اس وقت پانچویں سے دسویں جماعت کے صرف 63 طلباءہیں جن میں صرف ایک مسلمان طالب علم ہائی اسکول میں داخل ہے۔ پی ٹی اے کے نائب صدر نے کہا کہ مسئلہ یہ تھا کہ جو بچے آئے تھے وہ مسلمان تھے… یہاں تک کہ انہوں نے جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ بھی مسئلہ تھا۔اساتذہ نے کہا کہ ہیڈ مسٹریس نے ماضی میں بھی مسلمان طلباءکے ساتھ ایسا ہی سلوک کیاہے۔کیرالہ کے وزیر تعلیم این شمس الدین نے کہاکہکسی کو بھی حق نہیں ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم تک رسائی سے روکے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کے تعلیمی نظام میں مسلمانوں کے خلاف مذہبی تعصب کی ایک اور مثال ہے۔







