مضامین

جنگِ ایران کا خاتمہ، پاکستان نے کر دکھایا

ارشد میر

پاکستان کی کاوشوں سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کی سہ فریقی جنگ اور اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والی سنگین معاشی و سلامتی پیچیدگیوں کے خاتمہ کی راہ کا تعین ہوگیا ہے ۔فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا باضابطہ اعلان وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا نے امن کا تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے اور جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائی کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے اور میں پاکستانی قوم سمیت پوری عالمی برادری کو اس کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔معاہدے کی تصدیق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔

اس تاریخی معاہدے پر آئندہ مرحلے میں باقاعدہ دستخط جنیوا میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے جائیں گےجس میں امریکہ، ایران اور دیگر متعلقہ فریقین شریک ہوں گے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم شہباز شریف جنیوا کے لیے روانہ ہو نگے تاکہ اس عمل کو حتمی شکل دی جا سکے اور معاہدے کو بین الاقوامی قانونی حیثیت فراہم کی جا سکے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، یورپی ممالک اور متعدد عالمی دارالحکومتوں نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا کیونکہ اس معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف جنگ بندی ممکن ہوئی بلکہ آبنائے ہرمز جیسے عالمی اہمیت کے حامل بحری راستے کے دوبارہ کھلنے کی راہ بھی ہموار ہوئی جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آیا ہے۔ تاہم دشمنِ انسانیت و امن، اسرائیل میں اس معاہدے پر شدید مایوسی اور اضطراب دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی سیاسی اور عسکری حلقوں میں اسے ایک بڑی سفارتی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ متعدد اسرائیلی تجزیہ کار اسے وزیر اعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں کی ناکامی اور خطے میں اس کے سیاسی اثر و رسوخ میں کمی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی سیاست میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو کسی ریاست کی سفارتی تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہ جنگ ، جسے دنیا کے بہت سے مبصرین ایک اور عالمی جنگ کے پیش خیمہ سے تعبیر کررہے تھے کے خاتمے میں پاکستان کی ثالثی نہ صرف سفارتی تاریخ کا ایک غیر معمولی سنگ میل ہے بلکہ عالمی سیاست میں اس کے کردار کی نئی تعریف بھی ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سفارت کاری میں ایک غیر معمولی موڑ قرار دیا جا رہا ہےجس کے تحت پاکستان نے ایک مرکزی ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے خطے، بلکہ پوری دنیا کو ایک بڑے بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ جب پاکستان کی طرف سے ثالثی کا یہ عمل شروع ہوا تو پوری دنیا میں جہاں اس پر اسکی سراہنا کی جارہی تھی وہیں اسکی کٹھنائیوں کا بھی ذکر کیا جارہا تھا کہ دہائیوں سے بدترین دشمنی اور نظریاتی، سیاسی اعتبار سے دو انتہاؤں پہ رہنے والے دو ملکوں کو پاکستان کیسے ایک میز پہ لاکر صلح کرائے گا؟ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت امریکہ تھا اور دوسری طرف ایران، جو انقلابِ اسلامی کے بعد سے امریکی پالیسیوں کا سخت ناقد اور مخالف رہا ہے۔ ان دونوں کے درمیان عدم اعتماد، نظریاتی اختلافات، پابندیاں، پراکسی جنگیں اور براہ راست عسکری تصادم کا ایک طویل پس منظر موجود تھا۔ ایسے ماحول میں کسی تیسرے ملک کے لیے اعتماد پیدا کرنا، رابطے بحال کرنا اور مذاکرات کو نتیجے تک پہنچانا بلاشبہ ایک مشکل ترین سفارتی امتحان تھا۔
پاکستان کی کامیابی کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے اپنی روایتی سفارتی حکمت عملی، یعنی متوازن خارجہ پالیسی کا بہترین مظاہرہ کیا۔ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات موجود ہیں اور ایران کے ساتھ بھی مذہبی، ثقافتی، جغرافیائی اور اقتصادی روابط ہیں۔ یہی وہ منفرد حیثیت تھی جس نے اسلام آباد کو ایک قابلِ قبول ثالث بنایا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کئی ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ رابطوں اور مذاکرات میں مصروف تھا اور متعدد مواقع پر تعطل کے باوجود اس نے کوششیں جاری رکھیں۔

یقینا ثالثی کا یہ عمل آسان نہ تھا۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ بار بار پیدا ہونے والی جنگی صورتحال تھی۔ جب بھی مذاکرات کسی نتیجے کے قریب پہنچتے، کوئی نیا حملہ، کوئی نئی دھمکی یا کوئی نیا متضاد بیان سفارتی ماحول کو متاثر کر دیتا۔ اسرائیل نے بطور خاص اسکو ثبوتاژ کرنے کی کوششیں کیں اور بھارت درون خانہ اسکی معاونت کررہا تھا۔ امریکی کی طرف سے متکبرانہ بیانات اور تضاد عملی نے بھی اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں کہ پاکستان جب بھی ایران کو ایک مقام پہ لےآتا تھا تو امریکی صدر اپنے بیان یا ان کی فوج اپنے کسی حملے کی وجہ سے اسکو مایوس کرکے سارے عمل پہ پانی پھیر دیتا تھا۔ ایران نے درمیان میں جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ کیا مگر پاکستان نے صبر، یقین، اور عمل پیہم کا دامن نہیں چھوڑا۔

اس سارے منظرنامے میں بھارت کا رویہ انتہائی منفی اور معاندانہ رہا۔ بھارتی میڈیا نے پاکستان کا مذاق اڑایا،یہاں تک بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسے دلالی قرار دیا جس پر انھیں پورے دنیا سے لعنت و ملامت کی گئی۔ بھارت میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان اپنے قد سے بڑا کام کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بھارت کو یہ کردارنہ ملنے اور سفارتی قرطاس سے غائب ہونے کا رنج تھا۔ بھارت میں میڈیا پہ سوالات ہوتے رہےکہ پاکستان سے 8 گنا بڑا اور ایران کا دیرینہ دوست ملک بھارت یہ کردار ادا کیوں نہیں کرسکتا؟ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نئی دہلی نے خود کو خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا شراکت دار اور ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ایران اور امریکہ دونوں نے ثالثی کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا، بھارت پر نہیں۔ یہ حقیقت بذاتِ خود خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ ایران پر جارحیت سے عین پہلے مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا اور وہاں اسرائیل کو اپنا باپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ پھر بھارت آئے ایرانی بحری جہازوں پر امریکی حملے میں بھارت کا متاثرین کی امداد تک نہ کرنا بھی دنیا خاص طور پر ایران نے دیکھا۔ یہی بھارت پاکستان کو سفارتی طور پر تنہاء کرنے کا دعویٰ کرتا تھا اور اسی بھارت میں چیخ و پکار دنیا نے سنی کہ اس سارے عمل میں وہ کہاں ہے، غیر متعلق کیوں ہوگیا؟ پاکستان کا یہ شاندار سفارتی کارنامہ جتنا تاریخی ہے اتنا ہی بھارت کے لئے تازیانہ بھی ہے۔ پاکستان نے وہ کر دکھایاجو بھارت جیسے ملک تو کجا، دنیا کے بڑے اور بااثر ممالک نہ کر پائے۔پاکستان کے ا س کردار کے اثرات پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس عمل کے دوران امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو متعدد مواقع پر سراہا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار پاکستان، خصوصا وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لیکر انکے کردار اور فکرو تدبر کی سراہنا کی۔

اس سفارتی کارنامے کے بعد پاکستان کا قد کاٹھ کتنا بلند ہوا، اسکے اثر و رسوخ میں کتنا اضافہ ہوا اور اب اسکا یہ مقام خطے کے تذویراتی حالات، خصوصا پاک بھارت تعلقات اور مسلہ کشمیر کے حل پر کتنا اثر انداز ہوگا؟ اگرچہ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم بیشتر مبصرین پاکستان کو نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی Net Stabilizerاور Net Security Provider کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

عالمی سیاست میں اثر و رسوخ صرف معاشی یا عسکری طاقت سے نہیں بڑھتا بلکہ بحرانوں کے حل میں کردار ادا کرنے سے بھی بڑھتا ہے۔ ناروے، قطر، ترکیہ اور عمان جیسے ممالک نے مختلف ادوار میں ثالثی کے ذریعے اپنی عالمی حیثیت مستحکم کی۔ امریکہ اور ایران جیسے مخالفین کو مذاکرات کی میز تک لے آنے اور تصفیہ کرانےسے پاکستان مسلم دنیا، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ایک ذمہ دار اور موثر سفارتی قوت کے طور پر مزید ابھرے گا۔

اس کا دوسرا اہم اثر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں امریکی پالیسی کا جھکاؤ بڑی حد تک بھارت کی جانب تھالیکن حالیہ پیش رفت نے یہ ثابت کیا کہ واشنگٹن اب بھی بعض اہم علاقائی اور عالمی معاملات میں پاکستان کو ایک ناگزیر شراکت دار سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے کردار کا نمایاں ذکر کیا گیا اور متعدد رپورٹس میں اسے "کلیدی ثالث” قرار دیا گیا۔

خطے کے تذویراتی ماحول پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسا پاکستان جو امریکہ، ایران، چین، خلیجی ممالک اور ترکیہ کے ساتھ بیک وقت رابطے رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ جنوبی ایشیا میں سفارتی توازن پیدا کرنے کی بہتر پوزیشن میں آ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کشمیر کا مسئلہ فوری حل ہو جائے گالیکن یہ ضرور ہے کہ پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافے سے کشمیر کے معاملے پر اس کے مؤقف کو پہلے سے زیادہ توجہ اور تقویت مل سکتی ہے۔

خاص طور پر اس وقت جب دنیا یہ دیکھ رہی ہو کہ پاکستان صرف شکایات کرنے والا ملک نہیں بلکہ تنازعات کے حل میں عملی کردار ادا کرنے والی ریاست ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ساکھ ایک بہت بڑی طاقت ہوتی ہےاور پاکستان کی اس بحران میں کامیاب ثالثی سے اس کی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔ یہی ساکھ مستقبل میں کشمیر سمیت دیگر علاقائی تنازعات کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی مہم کو تقویت دے سکتی ہے۔

تاہم اس کامیابی کا تجزیہ کرتے وقت ایک حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ امن معاہدے کی پائیداری ابھی آزمائش کے مرحلے میں ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام، اسرائیل کے تحفظات اور خطے میں جاری دیگر تنازعات ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوئے۔ خود بین الاقوامی رپورٹس میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ امن عمل کو برقرار رکھنا، اسے مکمل معاہدے میں تبدیل کرنا اور تمام فریقوں کو مطمئن رکھنا ایک مسلسل چیلنج ہوگا۔

اس کے باوجود ایک حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ پاکستان نے اس بحران میں جس سفارتی صلاحیت، تحمل، تدبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اس نے عالمی سطح پر اس کے بارے میں کئی پرانے تصورات کو بدل دیا ہے۔ یہ کامیابی محض ایک معاہدے کی کامیابی نہیں بلکہ اس سوچ کی کامیابی ہے کہ پاکستان صرف جغرافیائی اہمیت رکھنے والا ملک نہیں بلکہ جیوپولیٹیکل اور جیو ڈپلومیٹک اہمیت کا حامل ایک ایسا ملک بھی ہے جو بحرانوں کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر آنے والے دنوں میں یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملتا ہے تو تاریخ ممکنہ طور پر 2026ء کو اس سال کے طور پر یاد رکھے گی جب پاکستان نے اپنی سفارتی مہارت سے ایک خطرناک جنگ کو ختم کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا، عالمی سیاست میں اپنا مقام بلند کیا اور یہ ثابت کیا کہ بعض اوقات قوموں کی عظمت ان کے حجم سے نہیں بلکہ ان کے کردار سے متعین ہوتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button