بھارت

بھارت :کیرالہ میں دوران حراست پولیس کے تشددسے مسلمان شخص کی موت

نئی دہلی : بھارتی ریاست کیرالہ کے ضلع کولم میں پولیس کے وحشیانہ تشدد کے بعد ایک 29 سالہ مسلمان شخص صیادنے اسپتال میں دم توڑ دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کنڈارہ سے تعلق رکھنے والے ایک نجی بس ڈرائیور صیاد کو کنڈارہ پولیس نے 13سالہ لڑکے کے لاپتہ ہونے کی شکایت کے بعد گرفتارکیاتھا۔ اگلی صبح لڑکے کے گھر واپس آنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔ اہل خانہ نے بتایا کہ گرفتاری کے فوراً بعد صیاد پر پولیس جیپ کے اندر حملہ کیا گیا۔ گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے والے شکایت کنندہ نے میڈیا کو بتایا کہ میں جیپ کے اندر ہی تھا جب صیاد کو مارا پیٹا گیا۔ وہ درد سے چیخ رہا تھا جب اس پر تشدد کیا جا رہا تھا۔صیاد کے والدین بدرالدین اور عارفہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے انہیں بتایا کہ اسے کوئی اور سمجھ کر بے دردی سے مارا گیا۔ اسے پہلے سے صحت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن پولیس تشددکے بعد وہ آٹھ دن تک پانی بھی نہیں پی سکا۔کولم ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بتایاکہ ایکسرے میں صیاد کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں۔ بعد میں اس کے پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن ہوا جو زخموں سے جڑا ہوا تھا اور اسے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال ترواننت پورم میں منتقل کیا گیا جہاں وہ وینٹی لیٹر سپورٹ پرتھا اورزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ اہلخانہ نے بتایاکہ صیاد گھر کا واحد کمانے والاتھا جس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ انہوں نے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کی برطرفی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (DYFI) نے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کنڑا پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button