بھارت

آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں شفافیت اور جوابدہی لانے کا مطالبہ زورپکڑرہا ہے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سیاسی مبصرین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں شفافیت اور جوابدہی لانے کے مطالبات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک اور اثر و رسوخ کے پیش نظراسے جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ بیانات بھارتی ریاست کرناٹک میں سیاسی رہنماو¿ں کی جانب سے راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی رجسٹریشن کرنے، اس کے فنڈنگ کے ذرائع معلوم کرنے اور اس کے عہدیداروں کی تفصیلات فراہم کرنے کے مطالبے کے بعد سامنے آئے۔مبصرین نے کہا کہ آر ایس ایس جس کی بھارت بھر میں ہزاروں شاخیں اور ایک وسیع بین الاقوامی نیٹ ورک ہے، دیگر تنظیموں پر لاگو شفافیت کے معیارات کے بغیر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہاکہ مذہبی بنیادوں پر تقسیم اور عدم رواداری کو فروغ دینے میں آر ایس ایس کے کردار کے بارے میں انسانی حقوق کے گروپوں اور آزاد مبصرین نے بار بار خدشات کا اظہار کیاہے۔انہوں نے کہا کہ اہم سیاسی اور سماجی تنظیموں کے لیے احتساب، مالی وسائل کا اظہار اور جمہوری اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔سیاسی مبصرین نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ جمہوری اقدار اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے تمام تنظیموں کی شفافیت اور غیر جانبدارانہ نگرانی کو یقینی بنائیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button