انسانی حقوق کا عالمی دن: مقبوضہ جموں و کشمیر، انصاف کا منتظر، خاموشی کا نہیں


محمد شہباز
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights) اقوام متحدہ کی ایک تاریخی دستاویز ہے، جسے 10 دسمبر 1948 کو منظور کیا گیا۔ اس اعلامیہ میں پہلی بار تمام انسانوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی نشاندہی کی گئی۔ یہ اعلامیہ دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی امن کے قیام کی کوششوں کا حصہ تھا اور اس میں 30 شقیں ہیں جو نسل، رنگ، جنس یا عقیدے سے بالاتر تمام انسانوں کو زندگی، آزادی، تعلیم، صحت اور وقار جیسے حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔ انسانی حقوق کے اس عالمی بل کا سب سے زیادہ ترجمہ کیا گیا ہے اور اسے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔
ہر سال 10 دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے، لیکن جیسے جیسے یہ دن قریب آتا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کی حالت زار میں مزید خوفناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس دن کا عالمی پیغام دراصل مقبوضہ کشمیر کی ظلم و جبر کی داستان کو اُجاگر کرتا ہے، جہاں بھارت کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو محض فوجی طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کر رہا ہے، اور دنیا اس سب پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہ صرف انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، بلکہ ان حقوق کو بھارتی فوج کی بوٹوں تلے مسلا جا رہا ہے۔ کشمیری عوام کی عزت و ناموس کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے اور بھارتی افواج کا جبر و تشدد معمول بن چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا خطہ ہے، جہاں دس لاکھ بھارتی فوجی کشمیری عوام پر جبر کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ چیک پوسٹیں، گھروں پر چھاپے، مکینوں پر تشدد اور قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ یہاں کے روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
کشمیری عوام کے لیے روزمرہ زندگی، جیسے بازار جانا، رشتہ داروں سے ملنا، یا بچوں کا اسکول جانا، اب سخت بھارتی فوجی نگرانی کے تحت انجام پاتی ہے۔ یہ سب کچھ کشمیری عوام کے لیے غلامی اور جبر کا واضح پیغام ہے، جس میں ان کی آزادی اور خودمختاری کو سختی سے دبایا جا رہا ہے۔ بھارت نہ صرف جسمانی طور پر انسانی حقوق کا استحصال کرتا ہے، بلکہ اپنے غیر قانونی تسلط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ظالمانہ قوانین، جدید ٹیکنالوجی اور معلوماتی حربے بھی استعمال کرتا ہے۔ 5اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آئینی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا، جس سے کشمیر کی آئینی حیثیت کو یک جنبشِ قلم مٹا دیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر دیا، جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ ایک صدیوں پرانی ریاست کے وجود کو محض ایک قانونی فیصلے سے نیست و نابود کرنے کی کوشش تھی۔ اس فیصلے کے نفاذ کے دوران بھارت نے پورے مقبوضہ کشمیر پر فوجی محاصرہ مسلط کر دیا، جس میں انٹرنیٹ، فون اور لینڈ لائنز سمیت تمام مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر ایک برس تک دنیا سے کٹ کر رہ گیا۔ تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے، اور اسپتالوں کی خصوصی خدمات بھی معطل کر دی گئیں۔ لاکھوں کشمیریوں کی روزمرہ زندگی میں مسلسل پریشانی اور مشکلات آئیں، اور بھارت نے کشمیری عوام کو قید کرنے، ان کی آزادی کو سلب کرنے، اور ان کی آواز کو دبانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا۔
5 اگست 2019 کے بعد ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں بھارتی جیلوں یا عقوبت خانوں میں قید کر لیا گیا۔ اس دوران پوری آزادی پسند قیادت کو پہلے ہی گرفتار کر کے بھارتی جیلوں کی زینت بنایا گیا۔ ان قیدیوں کو اپنے گھروں سے سینکڑوں میل دور رکھا گیا تاکہ ان کے اہل خانہ ان سے ملاقات نہ کر سکیں۔ نتیجے کے طور پر، کشمیری خاندانوں کو اپنے پیاروں سے دور رکھا گیا، اور انہیں اپنے عزیزوں کی صحت یا حالت کے بارے میں کوئی معلومات تک نہ مل سکیں۔ بھارت کی دور دراز ریاستوں میں کشمیری قیدیوں پر جرائم پیشہ افراد کی جانب سے حملوں کا مسلسل خطرہ رہتا ہے، اور ان کے لیے بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں ہیں۔ تہاڑ جیل جیسے بدنام زمانہ جیلوں میں قید آزادی پسند کشمیری رہنماؤں اور کارکنوں کو شدید جسمانی اور ذہنی عذاب کا سامنا ہے۔ ان قیدیوں میں کئی خواتین بھی شامل ہیں، جنہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ بھارتی حکومت کشمیری قیدیوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہی ہے۔ جنیوا کنونشن کے تحت بھارت کو نظربندوں کے حقوق کا احترام کرنا لازم ہے، مگر بھارتی حکام ان حقوق کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بھارت نے اپنے اقدامات سے نہ صرف کشمیری عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے، بلکہ عالمی انسانی حقوق کے معیارات کی بھی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ بھارت اس بات کا احساس کیے بغیر کہ وہ عالمی قوانین کے مطابق نظر بندوں کے حقوق کا پابند ہے، کشمیری قیدیوں کے ساتھ بدترین سلوک کر رہا ہے۔ رواں برس 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے فالس فلیگ آپریشن کے بعد، بھارتی فوج نے نہ صرف کشمیریوں کے گھروں کو بارودی دھماکوں سے تباہ کیا بلکہ 2800 سے 3200 کشمیریوں کو گرفتار بھی کیا۔ ان میں بیشتر نوجوان تھے جو بدستور قید میں ہیں اور سخت حالات میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی نگرانی کا نیٹ ورک دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ اہل کشمیر کی ہر حرکت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے، اور مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے چہرے کی شناخت، بائیومیٹرک ڈیٹا اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ جیسے جدید طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کشمیری اسکالرز، آزادی پسند کارکنوں اور صحافیوں کو آن لائن پوسٹس شیئر کرنے پر پولیس تھانوں میں طلب کیا جاتا ہے، اور ان کے گھروں کی تلاشی لے کر ان کی آزادی اظہار رائے کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو مکمل طور پر دبایا جا چکا ہے۔ کشمیری صحافیوں پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور انہیں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے لاگو کیے گئے سخت قوانین جیسے UAPA (Unlawful Activities (Prevention) Act)، کشمیری صحافت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ یہ قوانین نہ صرف اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کا ذریعہ ہیں بلکہ صحافیوں کو خود اپنے حقوق کی دفاع کرنے سے بھی روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں لوگ آج بھی اپنے گمشدہ عزیزوں کی حالت زار کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔ بھارتی فوج کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) کے تحت مکمل استثنی حاصل ہے، جس کا مطلب ہے کہ بھارتی فوجی کسی بھی قسم کے جرائم کے لیے جوابدہ نہیں ہیں۔ اس ظالمانہ قانون کی موجودگی میں نہ صرف یہ کہ بھارتی فوج کے اہلکاروں کو اپنے جرائم کے لیے عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا، بلکہ انہیں کسی بھی قسم کی سزائیں بھی نہیں دی جا سکتی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی تشدد کا شکار ہونے والی سب سے زیادہ متاثرہ کمیونٹی کشمیری خواتین ہیں۔ 1947 سے لے کر آج تک کشمیری خواتین بھارتی فوج کے ظلم و جبر کا نشانہ بن رہی ہیں۔ گزشتہ 37 برسوں کے دوران بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 2,356 کشمیری خواتین شہید ہو چکی ہیں، اور 11,269 خواتین کی عزت و آبرو پر حملے کیے گئے۔ 1989 سے اب تک 22,991 خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ ان بیوہ خواتین میں سے بہت سی کے شوہر بھارتی فورسز کے ہاتھوں گرفتار کے بعد لاپتہ ہو گئے، جنہیں "آدھ بیوہ” کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ خواتین اپنی زندگی گزارنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، اور ان کی حالت دل دہلا دینے والی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی نسل بچے ہیں۔ ہزاروں بچے پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی اور معذور ہو چکے ہیں، اور یہ واقعہ 2016 میں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا تھا۔ بھارتی فوج کی طرف سے پیلٹ گن کا استعمال بچوں اور نوجوانوں کے خلاف کیا گیا ہے، جس سے ایک پوری نسل کو مستقل جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید برآں، کریک ڈاؤن اور فوجی آپریشنز کی وجہ سے تعلیمی ادارے مسلسل بند رہتے ہیں، جس کی وجہ سے کشمیری بچوں کو تعلیم اور تحفظ کی بنیادی سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک اور سنگین مسئلہ آبادیاتی تبدیلی کے لیے کی جانے والی بھارتی حکومت کی مذموم کوششیں ہیں۔ بھارتی حکومت نے غیر ریاستی بھارتی ہندوؤں کو لاکھوں کی تعداد میں دومیسائل فراہم کر دیے ہیں، تاکہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے میں آبادیاتی تناسب کو بگاڑ کر یہاں کی سیاسی اور ثقافتی حیثیت کو متاثر کیا جا سکے۔ یہ سازش نہ صرف کشمیری مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام کسی بھی ممکنہ رائے شماری یا استصواب رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں ہونے والے انسانیت سوز جرائم کی ایک طویل اور تکلیف دہ تاریخ ہے۔ کنن پوشپورہ کا واقعہ اس ظلم کا ایک بدترین نمونہ ہے جسے نہ تو کبھی فراموش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے۔ 23 اور 24 فروری 1991 کی درمیانی رات، بھارتی وردی پوشوں نے کنن پوشپورہ کے ایک گاؤں میں 100 سے زائد خواتین کی عزت و آبرو کو پامال کیا۔ ان خواتین میں 6 سالہ بچیاں اور 85 سالہ بزرگ خواتین بھی شامل تھیں۔ وہ خواتین جو اس ظلم کا شکار ہوئیں، ان میں سے بہت ساری اس دنیا سے جا چکی ہیں، لیکن جو زندہ ہیں، ان کی آنکھوں میں وہ درد اور وہ کرب آج بھی زندہ ہے۔ ان کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ اسی طرح شوپیاں کی آسیہ اور نیلوفر کی کہانی بھی عالمی سطح پر شہرت پا چکی ہے۔ ان دونوں معصوم لڑکیوں کو بھارتی فورسز نے دن دہاڑے اپنے باغ سے اغوا کیا۔ ان کی اجتماعی آبروریزی کے بعد انہیں قتل کر کے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ یہ واقعات صرف کچھ مخصوص حالات کا بیان نہیں ہیں، بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نمونے ہیں جہاں خواتین کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
بھارتی افواج مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کے جسم کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہی ہیں، تاکہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو دبایا جا سکے۔ ان مظالم کا شکار ہونے والی کشمیری خواتین نہ صرف جسمانی اذیت برداشت کرتی ہیں، بلکہ ان کے انسانی حقوق بھی بری طرح پامال ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کا حقِ خود ارادیت تسلیم کیا گیا ہے، لیکن بھارت اس حق کو طاقت کے ذریعے دبا رہا ہے، اور اس کے لئے خواتین کی اجتماعی زیادتی کو ایک مؤثر ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔
5 اگست 2019 کے بعد، بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئے قوانین نافذ کیے ہیں جو غیر مقامی بھارتی شہریوں کو وہاں زمین خریدنے اور اہم ملازمتوں میں باضابطہ طور پر حصہ لینے کی اجازت دیتے ہیں۔ ان قوانین کی وجہ سے ہزاروں کشمیری مسلمانوں کو ان کی نوکریوں سے برطرف کیا جا چکا ہے اور سینکڑوں کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو بگاڑنا اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ اقدامات کشمیریوں کے خوف کو بڑھا رہے ہیں اور ان میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ بھارت کشمیر میں اپنی سیاسی و ثقافتی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔ یہ آبادیاتی تبدیلی ایک اتفاقیہ نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طویل مدتی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیر کی مسلم اکثریت کو ختم کرنا اور اس کی ثقافتی اور سیاسی حیثیت کو ختم کرنا ہے۔
دنیا آج انسانی حقوق کا عالمی دن منانے جا رہی ہے، لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔ یہاں بھارتی حکومت کی ریاستی طاقت کے ذریعے لوگوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، اور ان مظالم کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی ایک سنگین جرم بن چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے وعدے اب صرف بڑے ہالوں میں گونجتے ہیں، لیکن کشمیری عوام کا مطالبہ خاموشی میں گم ہو رہا ہے۔
کشمیری عوام نہ صرف اپنے شہری حقوق سے محروم ہیں بلکہ اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے حق سے بھی محروم کیے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار رائے پر قدغن، ڈیجیٹل جبر، فوجی آپریشنز، اور آبادیاتی تبدیلیوں کی سازشیں ان مظالم کا حصہ ہیں جو کشمیری عوام روزانہ برداشت کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کشمیری عوام کو ان کے حقوق کب ملیں گے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ان کی آواز بنے گی؟ کیا عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہے گی، یا وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہو کر ان کے حقوق کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائے گی؟
مقبوضہ جموں و کشمیر آج انصاف کا منتظر ہے، خاموشی کا نہیں۔







