
یومِ عاشور محض اسلامی تاریخ کا ایک المناک باب نہیں بلکہ ظلم کے مقابلے میں حق، صبر، مزاحمت، استقامت اور انسانی وقار کی ایسی لازوال داستان ہے جو ہر دور کے مظلوموں کو حوصلہ، امید اور مزاحمت کا درس دیتی ہے۔ محرم کی دس تاریخ آتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل کربلا کی یاد سے بوجھل ہو جاتے ہیں۔ فرات کے کنارے پیاسے لب، معصوم بچوں کی سسکیاں، اہلِ بیت اطہار کی قربانیاں اور امام حسین رضی اللہ کاعظیم کردار انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔
کربلا ایک میدان کا نام نہیں، یہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک پیغام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کربلا آج بھی زندہ ہے اور دنیا کے ہر مظلوم خطے میں اس کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ بھارت کے جابرانہ تسلط میں گھرا جموں و کشمیر بھی انہی خطوں میں سے ایک ہے جہاں کے باشندے اپنے حالات میں کربلا کے کئی پہلوؤں کی جھلک محسوس کرتے ہیں۔ واقع کربلا کشمیریوں کو نظریاتی اور جذباتی قوت عطا کرتا ہے کیونکہ وہ بھی ریاستی ظلم و جبر کا سامنا کررہے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سے 10 لاکھ قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل عام، تشدد، گرفتاریوں، پابندیوں اور ریاستی دہشت گردی کے دیگر ہتھکنڈوں نےعوامی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کشمیری عوام مسلسل دباؤ، جبراور غیر یقینی صورتحال اور محاصرے میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان پر 10 لاکھ بھارتی فوج مسلط ہے، گذشتہ 26 برسوں میں اس قابض فوج نے ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا، گاؤ کدل، کاؤ ڈارہ، شالہ ٹینگ، بائی پاس سرینگر، سوپور، ہندواڑہ، بیجبہاڑہ اور براکہ پورہ سمیت کئی درجن قتل عام کے واقعات رونما ہوئے جن میں مجموعی طور پر ہزاروں لوگ خاک و خون میں غلطاں کئے گئے، خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی گئی، جن میں کنن پوش پورہ، کپواڑہ، زینہ پورہ شوپیاں، چوٹہ بازار سرینگر جیسے رپورٹ شدہ واقعات شامل ہیں، 11000 ہزار خواتین کو بھارتی فوج نے آج تک عصمت دری کا نشانہ بنایا یا ان پرجنسی حملے کئے۔ 2 لاکھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا جن میں 10 ہزار کے قریب کو زیر حراست غائب کیا گیا، پونے دو لاکھ گھروں اور دیگر تعمیرات کو بھارتی فوج نے بارودی مواد اور گولوں سے اڑادیا،1 لاکھ 9 ہزار بچوں کو یتیم اور 34 یزار خواتین کو بیوہ کیا۔ کشمیروں کو توہر روز کربلا ثانی سے گذرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں واقعۂ کربلا ان کے لیے محض ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ امید اور استقامت کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔
کربلا میں طاقت اور تعداد کا توازن ایک طرف تھا اور حق و صداقت دوسری طرف۔ امام حسینؑ اور ان کے رفقاء کی تعداد بہت کم تھی لیکن ان کے عزم کی بلندی نے انہیں تاریخ کا سب سے عظیم فاتح بنا دیا۔ آج بھی کشمیری عوام جب اپنی مشکلات، پابندیوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے ہیں تو انہیں کربلا کا یہی سبق یاد آتا ہے کہ حق کی قوت ہمیشہ ظاہری طاقت سے بڑی ہوتی ہے۔
کربلا میں پانی کی بندش ظلم کی ایک نمایاں علامت تھی۔ جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حسینیت کے پیرو کار کشمیریوں کو سیاسی آزادی، اظہارِ رائے، اجتماع اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور مسلسل فوجی محاصرہ کا سامنا ہے۔ کالے قوانین کا راج ہے جن کے تحت صحافیوں ، طلباء، انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین سمیت ہزاروں لوگ قید میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام اپنے حالات کو کربلا کے استعارے کے ذریعے سمجھنے اور بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مقبوضہ علاقہ میں مذہبی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں بھارتی ستم کا ایک پہلو ہے۔ سرینگر سے نکالے جانے والے نو اور دس محرم کے روایتی جلوسوں پر 35 سال سے عائد پابندی عائد ہے۔یہ جلوس صدیوں سے اس خطے کی مذہبی اور ثقافتی روایت کا حصہ رہے ہیں۔ ان کا تعلق عقیدت، یادِ شہداء کربلا اور مذہبی اظہار سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان جلوسوں پر پابندیاں عائد رہتی ہیں تو کشمیری عوام کے دلوں میں احساسِ محرومی مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ ایک طرف کشمیر میں معمول کے حالات اور ترقی کے دعوے کیے جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف مذہبی جلوسوں اور عوامی اجتماعات کے حوالے سے سخت ضابطے اور پابندیاں برقرار رہتی ہیں۔ اگر حالات واقعی معمول پر آ چکے ہیں تو پھر عوام کو اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات کے اظہار کا مکمل حق کیوں نہیں دیا جاتا؟
کربلا کا ایک اور اہم پہلو خوف کی نفسیات ہے۔ یزیدی لشکر تعداد، اسلحے اور طاقت میں بے پناہ برتری رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ امام حسینؑ کے قافلے سے خوفزدہ تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ حق کا پیغام تلوار سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اسی لیے شہادتوں کے بعد بھی اہلِ بیتؑ کو قید کیا گیا، ان پر سختیاں کی گئیں اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ ظلم کی طاقت عارضی ہوتی ہے جبکہ سچائی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
کشمیر میں بھی اظہارِ رائے اور معلومات کی ترسیل سے متعلق کئی واقعات عالمی توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ سرینگر کی فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کا معاملہ اسی تناظر میں اکثر زیرِ بحث آتا ہے۔ ان کے خلاف محرم کے ایک مذہبی جلوس کی محض ایک تصویر شائع کرنے پر کالے قانون یو اے پی اے کے تحت کارروائی کی گئی جس پر مقامی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا۔ بعد ازاں انہیں مسلسل دباؤ اور ہراسانی کے باعث جرمنی بھاگ کر وہاں پناہ لینا پڑی مگر اسکے باوجود ان کے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کیا گیا، یہاں تک ان کے بوڑھے والدین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یومِ عاشور یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ظلم صرف جسموں کو زخمی کر سکتا ہے، نظریات کو نہیں۔ امام حسینؑ کا پیغام یہ تھا کہ انسان کو حق اور انصاف کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، خواہ اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا ہر دور کے مظلوموں کی امید بن گئی ہے۔ فلسطین سے لے کر کشمیر تک، جہاں کہیں بھی لوگ اپنے حقوق، شناخت اور آزادی کے لیے یا جبر کے نظام کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، وہاں کربلا کا پیغام ان کے دلوں کو طاقت بخشتا ہے۔
آج جب کشمیری عوام عاشور کے جلوسوں، مجالس اور یادِ شہداء کربلا میں شریک ہیں تو ان کی آنکھوں میں صرف چودہ سو سال پرانا غم نہیں بلکہ اپنے عہد کے دکھ بھی شامل ہیں۔ وہ حضرت زینبؑ کے صبر کو یاد کرتے ہیں، امام حسینؑ کی استقامت سے حوصلہ لیتے ہیں اور حضرت عباسؑ کی وفاداری سے وفا کا سبق لیتےہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ظلم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے، اس کا انجام شکست ہی ہے۔
عاشور کا دن انھیں باور کراتا ہے کہ طاقت کا اصل معیار اسلحہ، فوج یا اقتدار نہیں بلکہ سچائی، عدل اور اخلاقی جرات ہے۔ کربلا کے شہداء نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ حق کا علم کبھی سرنگوں نہیں ہوتا۔
یومِ عاشور کا اصل پیغام یہی ہے کہ ظلم کے اندھیروں میں بھی حق کا چراغ روشن رکھا جائے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کربلا کے چراغ کو نہ یزید بجھا سکا تھا اور نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت اسے کبھی بجھا سکے گی۔ یہی پیغام آج بھی کشمیر کے گلی کوچوں میں، وادی کے پہاڑوں اور میدانوں میں اور ان کےدلوں میں زندہ ہے جو مشکلات اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔








