راجستھان: تین مسلم محنت کشوں کو مزدوری طلب کرنے پر اغوا کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا

جے پور: بھارتی ریاست راجستھان میں ایک کان کنی کے مقام پر مرمت کے کام کے لیے ادائیگی کا مطالبہ کرنے پر تین مسلم مزدوروں کو اغوا کرنے کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرین نے کہا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور ہندو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ رواں ہفتے کے شروع میں ضلع بیور میں پیش آیا۔ ساجد خان اسکا بھائی جنید اور بھتیجا ساحل 28 جون کو جھوٹھا گاوں میں ایک کان میں مشینری کی مرمت کے لیے گئے تھے۔ کام مکمل کرنے کے بعدانہوں نے کان کے مالک سے اپنی اجرت مانگی لیکن مالک مکیش مالی نے انہیں مزدوری دینے بجائے اپنے چار یا پانچ ملازموں کے ہمراہ انہیں اغوا کیا اور دفتر لے جاکر رسیوں سے باندھ دیا اور رات بھر نہ صرف قید رکھا بلکہ لوہے کی سلاخوں، بیلچوں اور لکڑی کی لاٹھیوں سے انہیں پیٹتے بھی رہے۔ کان کے ہندو مالک اور دیگر نے مسلم محنت کشوں کوجئے شری رام کا نعرہ لگانے پر بھی مجبور کیا ۔
میڈیا رپورٹس میں کہاگیا کہ پولیس نے کان مالک اور تشدد میں ملوث دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔





