اقوام متحدہ : مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے پر پاکستانی اور بھار تی مندوبین کے درمیان تکرار

un_scاقوام متحدہ06اکتوبر (کے ایم ایس)
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کی جانب سے دنیا کی توجہ بھارت کی جارح اور توسیع پسند حکومت کی جانب سے جنوبی ایشیا کے امن اور سلامتی کو درپیش خطرے کی طرف مبذول کرانے اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں مودی حکومت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کواجاگر کرنے کے بعد عالمی ادارے میں پاکستان اور بھارت کے مندوبین کے درمیان لفظی تکرار ہوئی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی مندوب سوباشاشینی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تخفیف اسلحہ اور بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر کام کرنے والی پہلی کمیٹی میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کے بیان کے ردعمل میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے دعوی کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور الزام عائد کیا کہ پاکستان دہشت گردی میں ملوث ہے ا اور پاکستان کو ملک میں خواتین اور اقلیتوں کے پریشان کن حالات پر فکر مند ہوناچاہیے۔اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب گل قیصر سروانی نے جواب دینے کا اپناحق استعمال کرتے ہوئے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ جموں و کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور نقشوں میں کشمیر متنازعہ علاقے کے طور پر موجود ہے اور یہ بھارت کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ جموں وکشمیر اس کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیرکے مستقبل کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام نے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی استصواب رائے کے ذریعے کرنا ہے اور بھارت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کو تسلیم کیا ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کا فوجی مبصر مشن متنازعہ علاقے میں کنٹرول لائن کے ساتھ تعینات ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اگر بین الاقوامی قانون اور اخلاقیات کا کوئی احترام کرتا ہے تو وہ جموں و کشمیر میں اپنی ریاستی دہشت گردی کاسلسلہ فوری کرے ،مقبوضہ علاقے سے فوجی انخلا کرے اور کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دے ۔انہوں نے کہا کہ جارح، نوآبادیاتی سوچ کا حامل اور غیر قانونی قابض ملک بھارت کشمیریوں کی اپنے حق خودارادیت کے حصول اور آزادی کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرکے انہیں دبانے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ بھارتی مندوب نے پاکستان کی طرف سے پیش کئے گئے حقائق بشمول بھارت کی طرف سے اسلحے کی ڈورکے ذریعے خطے کوغیر مستحکم کرنے اور جارحانہ فوجی پالیسوں پر کوئی بات نہیں کی ۔ انہوںنے زور دیا کہ پاکستان کی طرف سے اٹھائے گئے معاملات علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کی صورتحال پرممکنہ طور پر سنگین اثرات مرتب کرنے کی وجہ سے مکمل طور پر کمیٹی کے کام سے متعلق ہیں ۔ گل قیصر سروانی نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو اجاگر کیا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے اقلیتوں کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے کی بجائے اپنی ریاستی معاملات پرتوجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے بالادست نظریے کے باعث اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف اسلامو فوبیا اور تعصب میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج کے ناقابل یقین حد تک عدم برداشت والے ملک بھارت میں 20کروڑ مسلمانوں کو گائو رکھشکوں کے ذریعہ بار بار بار قتل اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بھارتی حکومت کی ملی بھگت سے آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے قتل عام، مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے لیے امتیازی قانون شہریت اور مساجد کو نقصان پہنچانے کی ایک مشترکہ مہم جاری ہے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: