
تعلیم کسی بھی معاشرے کی فکری بنیاد، اجتماعی شعور اور مستقبل کی معمار ہوتی ہے۔ جب ریاستیں تعلیمی اداروں کو علم، تحقیق اور تنقیدی سوچ کے مراکز کے بجائے جابرانہ پابندیوں کی شکار اور فسطائی نظریات کے فروغ کا ذریعہ بنا دیتی ہیں تو وہاں نسلیں کتابوں سے نہیں بلکہ سرکاری بیانیوں سے تربیت پاتی ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ کی جانب سےاسکولوں کی لائبریریوں سے بعض کتابوں کی ضبطی، ان کے مصنفین اور ناشرین کو بلیک لسٹ کرنے، آٹھ تعلیمی افسران کو معطل کرنے اور بی جے پی کی جانب سے اسے "اکیڈمک جہاد” قرار دینے کا معاملہ درحقیقت ایک کتاب یا چند صفحات کا تنازع نہیں بلکہ علم، تاریخ اور آزادیٔ فکر پر ایک منظم حملہ ہے۔ یہ واقعہ اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں تاریخ، شناخت، ثقافت اور سیاسی شعور کو ہندوتوا کے نظریاتی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس معاملے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ جن کتابوں کو متنازع قرار دیا گیا، وہ کسی خفیہ ذریعے سے اسکولوں تک نہیں پہنچیں بلکہ ایک باقاعدہ تعلیمی اور انتظامی عمل کے ذریعے منتخب کی گئی تھیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 18 ہزار سے زائد سرکاری اسکولوں کے لیے کتابوں کے انتخاب کی غرض سے ماہرین تعلیم پر مشتمل چار ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ ان کمیٹیوں نے سینکڑوں ناشرین کی پیش کردہ کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد مختلف تعلیمی سطحوں کے لیے مناسب کتب کی سفارش کی۔ لیکن جیسے ہی بی جے پی اور اس سے وابستہ ہندوتوا تنظیموں نے اعتراض اٹھایا، پوری علمی مشق کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد نہ صرف کتابیں واپس لے لی گئیں بلکہ سفارش کرنے والے تعلیمی افسران کو بھی معطل کر دیا گیا۔ گویا تعلیمی مہارت اور پیشہ ورانہ رائے کی کوئی حیثیت باقی نہ رہی۔
یہ طرزِ عمل اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ مقبوضہ علاقہ میں تعلیمی فیصلے اب ماہرین تعلیم نہیں بلکہ سیاسی دباؤ اور نظریاتی ترجیحات طے کر رہی ہیں۔ اگر کسی کتاب میں ایسے کشمیری رہنماؤں یا تاریخی شخصیات کا ذکر موجود ہو جنہیں سرکاری بیانیہ پسند نہیں کرتا تو پوری کتاب کو "غیر مناسب” قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مصنفین اور ناشرین کو بلیک لسٹ کر کے ان کی تمام مطبوعات کو علاقے سے ہٹانے کا حکم دیا گیا۔ یہ اقدام صرف ایک کتاب کی مخالفت نہیں بلکہ علمی آزادی کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔
بی جے پی کی جانب سے اس پورے معاملے کو "اکیڈمک جہاد” کا نام دینا بھی نہایت معنی خیز ہے۔ جب علمی اختلاف کو مذہبی یا قومی سلامتی کے خطرے سے جوڑ دیا جائے تو پھر دلیل کی جگہ الزام، تحقیق کی جگہ پروپیگنڈا اور مکالمے کی جگہ خوف لے لیتا ہے۔ کسی کتاب کے مواد سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس پر علمی تنقید کی جا سکتی ہے، متبادل نقطۂ نظر پیش کیا جا سکتا ہےلیکن اسے "غداری” یا "جہاد” قرار دے کر مصنف، ناشر، اساتذہ اور تعلیمی افسران کے خلاف کارروائی کرنا دراصل آزاد فکر کو جرم بنانے کی خالص ریاست گردی ہے۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ اعتراض کا بنیادی نکتہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ کتاب میں بعض کشمیری سیاسی شخصیات، حریت رہنماؤں اور کشمیر کی سیاسی تاریخ کے ایسے پہلو شامل تھے جو سرکاری مؤقف سے مختلف ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تاریخ صرف وہی ہوگی جسے بھارتی حکومت درست قرار دے؟ کیا آنے والی نسلوں کو مختلف نقطہ ہائے نظر سے آگاہ کرنا تعلیم کا بنیادی مقصد نہیں؟ دنیا کی معتبر جامعات اور تعلیمی نظام اسی اصول پر قائم ہیں کہ طلبہ کو مختلف آرا، تاریخی حوالوں اور متبادل بیانیوں سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ خود تنقیدی سوچ کے ذریعے نتائج اخذ کر سکیں۔ لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخ کو تحقیق کی نہیں بلکہ بھارت کے جابرانہ تسلط اور ظلم کے نظام سے وفاداری کی کسوٹی پر پرکھا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ اگست 2019 میں دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کی صورت کی گئی آئینی جارحیت کے بعد اختیار کی جانے والی کشمیریوں کی عددی، تہذیبی ، سیاسی اور معاشی تطہیر کی اُس وسیع تر پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت مقبوضہ علاقہ میں نہ صرف سیاسی ڈھانچہ تبدیل کیا گیا بلکہ ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی، ادبی سرگرمیوں، جامعات اور تعلیمی نصاب پر بھی سخت نگرانی بڑھا دی گئی۔ اس دوران کشمیر کی تاریخ اور سیاست پر مبنی متعدد کتابوں پر پابندیاں لگائی گئیں، کتاب فروشوں کے ہاں چھاپے مارے گئے اور علمی مواد کی ترسیل محدود کی گئی۔ اب اسکولوں کی لائبریریوں تک اس مداخلت کا پہنچ جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظریاتی کنٹرول کو ابتدائی تعلیمی سطح تک وسیع کیا جا رہا ہے۔
تعلیم کا بنیادی مقصد سوال پیدا کرنا ہوتا ہے، جواب مسلط کرنا نہیں۔ جب طلبہ صرف ایک ہی بیانیہ پڑھیں گے، متبادل آرا تک ان کی رسائی ختم کر دی جائے گی اور اساتذہ کو یہ خوف لاحق ہوگا کہ کسی مختلف زاویۂ نظر کی حمایت ان کی ملازمت ختم کر سکتی ہےتو تخلیقی ذہن کیسے پروان چڑھیں گے؟ ایسے ماحول میں تحقیق، تنقید اور علمی جستجو کے بجائے صرف سرکاری مؤقف کی تکرار باقی رہ جاتی ہے۔ ظاہر ہے، نسل نو کے اندر تحقیق، تنقید اور علمی جستجو پیدا ہونے سے سوائے ظالم و جابر قوتوں کے کون ڈر سکتا ہے؟
اس واقعے کا ایک اور افسوسناک پہلو تعلیمی ماہرین کی تذلیل ہے۔ جن کمیٹیوں نے باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد کتابوں کی سفارش کی، انہی کے ارکان کو غفلت، لاپروائی اور بدانتظامی کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ اس سے نہ صرف ان افراد کی پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہوئی بلکہ پورے تعلیمی نظام کو یہ پیغام بھی ملا کہ اگر آپ کی علمی رائے سیاسی ترجیحات سے مختلف ہوئی تو آپ کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح تعلیمی اداروں میں خود ساختہ سنسرشپ جنم لیتی ہےجہاں اساتذہ اور محققین اختلافی یا حساس موضوعات سے خود ہی گریز کرنے لگتے ہیں۔یہ صورتحال مقبوضہ اور آمریت ذدہ علاقوں میں میں ہی پیدا ہوتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر تعلیم، تحقیق اور اظہارِ رائے کی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یونیسکو اور متعدد دیگر عالمی تعلیمی ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جامعات، اسکول اور لائبریریاں سیاسی دباؤ سے آزاد رہنی چاہئیں تاکہ علم کی ترقی ممکن ہو سکے۔ اگر کتابوں پر پابندی، مصنفین کی بلیک لسٹنگ اور اساتذہ کی معطلی کو معمول بنا دیا جائے تو اس کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ مستقبل کی علمی روایت بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔
اس پورے معاملے سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا ریاستی طاقت تاریخ کو واقعی بدل سکتی ہے؟ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ کتابیں جلانے، مصنفین کو خاموش کرانے اور نظریات پر پابندیاں لگانے کی کوششیں وقتی طور پر تو خوف پیدا کر سکتی ہیں لیکن وہ تاریخ کے حقائق یا عوامی یادداشت کو ہمیشہ کے لیے مٹا نہیں سکتیں۔ مختلف ادوار میں قابضین و جابرین اور آمریتوں نے یہی راستہ اختیار کیا مگر بالآخر آزاد تحقیق اور تاریخی حقائق دوبارہ سامنے آئے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعلیمی اداروں پر بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ صرف کشمیری طلبہ اور اساتذہ کا مسئلہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے علمی مستقبل سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اگر تعلیم کو نظریاتی جنگ کا میدان بنا دیا جائے تو آنے والی نسلیں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دشمنی سمجھنے لگیں گی۔ اس کے نتیجے میں معاشرے مزید تقسیم، عدم برداشت اور فکری جمود کا شکار ہوں گے۔
اگر بھارت واقعی مہان تو کجا ایک عام سی کی جمہوریت بھی ہے تو اسے مقبوجہ جموںو کشمیرکے تعلیمی اداروں کوریاست گردی اور سیاسی انتقام سے الگ رکھنا چاہئے، کتابوں کا فیصلہ ماہرین تعلیم کریں نہ کہ فسطائی نظریات کی حامل جماعتیں اور اختلافی تاریخی بیانیوں کا جواب پابندیوں سے نہیں بلکہ تحقیق، مکالمے اور علمی مباحث سے دیا جائے۔ کسی سرزمین کے سچے دعویدار ملک کی اصل طاقت وہاں کتابوں پر پابندی لگانے میں نہیں بلکہ مختلف خیالات کو برداشت کرنے، ان پر بحث کرنے اور دلیل کے ذریعے اپنی بات منوانے میں ہوتی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں کتابوں کی ضبطی، تعلیمی افسران کی معطلی اور "اکیڈمک جہاد” جیسے سیاسی نعروں کا استعمال اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ وہاں تعلیم کو بتدریج ہندو فسطائی ہتھیار میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ جب لائبریریاں خوف کا شکار ہوں، اساتذہ سیاسی انتقام سے ڈریں اور طلبہ کو صرف ایک ہی زاویۂ نظر پڑھنے کی اجازت ہو تو ایسے ماحول میں علم کی نہیں بلکہ خاموشی کی پرورش ہوتی ہے۔ ایک پائیدار، باشعور اور پرامن معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں کتابوں سے اختلاف کیا جاتا ہے، انہیں ضبط نہیں کیا جاتا۔ جہاں تاریخ کو تحقیق سے سمجھا جاتا ہے، حکم سے نہیں اور جہاں تعلیم ریاستی بیانیے کی خادمہ نہیں بلکہ سچائی کی جستجو کا آزاد وسیلہ ہوتی ہے۔





