
یہ خدشہ پہلے سے موجود ہے کہ ایک شکست خودہ، زخمی، مایوس اور سفارتی طور پر قدرے تنہا ہوا بھارت پہلگام واقع کے تعلق سےایک ایسے بہانے کی تلاش میں ہے جس سے وہ پاکستان کے خلاف اپنے جھوٹے الزامات میں کچھ وزن پیدا اوربین الاقوامی رائے کو تبدیل کرسکے۔ عالمی برادری کو قابل بھروسہ ثبوت فراہم کرنے سے قاصر، بھارت نے ایک بار پھر پرانے اوربوسیدہ ہتھکنڈے کا سہارا لینے کی کوشش کی تاکہ ایک بیانیہ کو ہوا دے جو اس کے دیرینہ پروپیگنڈہ مشین کو ایندھن فراہم کرسکے ۔پہلگام کے علاقہ سے دو کشمیری نوجوانوں پرویز احمد اور بشیر احمدکو گرفتار کر نااسی کی تازہ مثال ہے۔
بدنام زمانہ انڈین نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے ہاتھوں گرفتار کئے گئے مذکورہ نوجوانوں پر پہلگام میں ایک موسمی جھونپڑی میں ان دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام ہے جنھوں نے بقول بھارتیوں کے پہلگام میں سیاحوں کو قتل کیا۔ تاہم، علاقے کے مقامی لوگوں نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد بے گناہ شہری ہیں۔ یہ گرفتاریاں ایک بار پھر ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح عسکریت پسندی یا ‘ آتنک واد ‘کے نام پر کشمیری حریت پسند عوام کو دبانے کے لئے قانون کے نام پر لاقانونیت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
عام سی فہم رکھنے والا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ بھارت کو پہلگام واقع کے حوالہ سے کوئی ایسی چیز یا بہانے کی تلاش ہے کہ جس سے وہ اپنی فیس سیونگ،جھوٹ کا بھرم اور تباہ شدہ ساکھ کی کسی قدر بحالی کرسکے۔ بھارتی میڈیا نے جس طرح مذکورہ افراد کی گرفتاری کی خبر کو سنسنی انداز میں اچھالا اس سے واضع ہورہاتھا کہ بھارتی حکومت نے شائد اس بہانے کی تلاش کرلی ہے۔
بھارت نے چونکہ پوری دنیا کے علاوہ داخلی سطح پر اپنے بہت سے لوگوں کی طرف سے شواہد پیش کرنے کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کیا اور اس سانحہ کےبہانے پاکستان پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا ارتکاب کیا مگر الٹا کچھ حاصل کرنے کے بجائے بہت کچھ کھو بیٹھا ، اسکا جھوٹ اور کمزوریاں بے نقاب ہوگئیں، برتری کا زعم ٹوٹااور سب سے بڑھ کر مودی سرکار، فوج ،میڈیا اوربطور جماعت بی جے پی کی ساکھ تباہ ہوئی تو وہ سب اب سخت ہزیمت کے احساس تلے ان تنکوں کی بھی تلاش میں ہیں جو انھیں ذلت کے اس بھنور سے نکال سکیں۔
پہلگام میں مذکورہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے 22 اپریل کے سانحہ کے ساتھ جوڑنا اسی ڈیسپریشن کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا دوسرا پہلو ‘وکٹم کارڈ ‘ کھیلتے ہوئے پاکستان کے خلاف کسی فالس فلیگ آپریشن کی جوازیت پیدا کرنا بھی ہوسکتا ہے تاکہ مئی کی جنگ کی شکست کا کچھ ازالہ ہوسکے۔ ویسے بھی مودی اینڈ کمپنی نے آگے انتخابات بھی تو لڑنے ہیں۔ اگر وہ 2019 میں ووٹ کی خاطر پاکستان پر حملہ کرکے خطے کو ایٹمی جنگ کی آگ میں جھونکنے سے نہیں چوکے اور جہاذوں کےگرنے اورپائلٹ کی گرفتاری کی شرمندگی کو بھی ووٹ بٹورنے کاذریعہ بنایا تو بھلا اس موقع پر وہ ایسا کیوں نہیں کرسکتی جب 2019 کے مقابلہ میں اسکی ہزار گنا زیادہ سبکی ہوئی ہے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری بھارت کی ان شیطانیوں سے آگاہ رہے اور کسی بڑے حادثہ کو ہونے سے بچنے کی تدبیر کرے جو میرٹ کے مطابق مسلہ کشمیر سے بہتر کوئی اور نہیں ہوسکتی۔






