بھارت

وانگ چک کا میری رضا مندی کے بغیر علاج نہ کیا جائے ، اہلیہ

میڈیکل رپورٹس نہیں د جارہی ہیں ، کل پارلیمنٹ کی طرف مارچ ہوکر رہے گا، گیتانجلی

نئی دلی: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطے لداخ سے تعلق رکھنے والے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک ، جنہیں گزشتہ روز پولیس نے دلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کے دوران زبردستی اٹھا کر ہسپتال پہنچایا، کی اہلیہ نے کہا ہے کہ ان کے شوہر ٹھیک ہیں تاہم باربار گزارش کے باوجود صدر جنگ ہسپتال انکی میڈیکل رپورٹس کی کاپی شیئر کرنے سے انکار کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وانگ چک کی اہلیہ گیتا نجلی نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ہسپتال کی انتظامیہ کو بتایا ہے کہ انکی مرضی کے بغیر وانگ چک کا کوئی علاج نہ کیا جائے اور انہیں ڈسجارچ کیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ سپتال کے کے باہر پولیس کیوں ہے ، انہیں ہسپتال کے اندر فون کیوں نہیں لے جانے دیا جا رہا ۔ گیتا تجلی نے کہا کہ ڈاکٹروں نے اطلاع دی ہے کہ وانگ چک کا پوٹا شیم لیول جو ایک روز قبل 4.3تھا گھٹ کو 2.9ہو گیا ہے لیکن میڈیکل رپورٹ کی کاپی نہیں دی جارہی ہے ۔
انہوںنے کہا کہ اگر یہ صرف ایک طبی معاملہ ہے تو پھر اتنی فورس تعینات کیوں کی گئی ہے ، ایسا لگ رہا ہے کہ یہ صفدرر جنگ ہسپتال نہیں بلکہ صفدر جنگ جیل ہے ۔ وانگ چک کی اہلیہ نے مزید کہا کہ انکے شوہر کو جنتر منتر سے زبردستی ہٹانے کا احتجاج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ، نوجوانوں نے تحریک جاری رکھی ہوئی ہے ، کل بیس جولائی کو پارلیمنٹ کی طرف مارچ ہو کر رہے گا اور اگر اس میں سونم شرکت نہ کر سکے تو میں انکی نمائندگی اور مارچ کی قیادت کروں گی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button