شبیر شاہ مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں: ڈی ایف پی

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے اپنے چیئرمین شبیر احمد شاہ کی جیل میں زندگی کے 39 سال گزارنے اور مسلسل 9 سال سے نظربند ی پر ان کی ثابت قدمی کو سلام پیش کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈی ایف پی نے آج سرینگر میں جاری ایک بیان میں جدوجہد آزادی میں پارٹی چیئرمین کے ناقابل فراموش کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شبیر احمد شاہ مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جیلوں اور حراستی مراکز میں گزاراہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ شبیر احمد شاہ نے سیاسی نظریے کی وجہ سے اپنی زندگی کے 73 سالوں میں39سال مقبوضہ جموں وکشمیر اوربھارت کی جیلوں اورحراستی مراکز میں گزارے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مضبوط حامی ہونے کے ناطے شبیر شاہ نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی کوشش کی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ شبیر شاہ نے کبھی بھی کشمیر پر بھارت کے جبری قبضے کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اپنے نظریے کو تبدیل کیا۔ڈی ایف پی نے کہا کہ شبیر شاہ نے جدوجہد کو اپنی زندگی کا راستہ بنایا اوروہ ثابت قدمی سے سیاسی مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ بدقسمتی سے ڈی ایف پی کے سربراہ کو ان کے سیاسی نظریے اور جدوجہد میں ان کے بے مثال کردار کی سزا دی جا رہی ہے۔بیان میں شبیر احمد شاہ کی غیر قانونی اور مسلسل نظربندی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاگیا کہ متعدد عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجود شبیر شاہ جیل میں ناقابل برداشت زندگی گزاررہے ہیں اور اپنے موقف پرڈٹے ہوئے ہیں۔ہم ان کے صبر، استقامت اور عزم کو سلام پیش کرتے ہیں۔ان کی غیر قانونی نظر بندی کو سراسر انتقام قرار دیتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ انہیں حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد میں بے مثال کرداراداکرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کشمیری سیاسی قیدیوں پر ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔







