بھارت

اترپردیش: محمد عمل جوہر یونیورسٹی کا مجوزہ انہدام ، سکھ بھی طلباء کیساتھ مظاہرے میں شریک ہوگئے

لکھنو:بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر رام پور سکھ برادری کے ارکان محمد علی جوہر یونیورسٹی کے مجوزہ انہدام کے خلاف مظاہروں میں شامل ہوئے، طلبا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکام ادارے کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق احتجاجی مظاہرے کی قیادت سماج وادی پارٹی کے قومی سیکرٹری کلدیپ سنگھ بھولر نے کی، جنہوں نے سکھ برادری کے افراد کی بڑی تعداد کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کی 40 عمارتوں میں سے 38 کو منہدم کرنے کے اقدام کے خلاف مظاہرہ کیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بھلر نے کہا کہ یونیورسٹی کو بد نیتی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کے ارکان نے طلبا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیمپس کا دورہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اسے منہدم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کریں گے۔بھلر نے کہا کہ یونیورسٹی کی عمارات قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہیں جنہیں محض انتقامی جذبے سے گرانے کی کوشش کی جار ہی ہیں، سکھ برادری ادارے کو تباہ نہیں ہونے دے گی۔انہوں نے کہا کہ سماج وادی پارٹی کے کارکنان انہدام کے حکم کے خلاف مختلف اضلاع میں احتجاج ار یونیورسٹی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں قائم ہندو توا جماعت بی جے پی کی ریاستی حکومت کے ماتحت رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے حال ہی میں یونیورسٹی کی38 عمارتوں کومنہدم کرنے کا حکم دے رکھا ہے جس کے خلاف طلباء گزشتہ کئی رو ز سے سراپا احتجاج ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button