مقبوضہ کشمیر: خنزیر کے گوشت کی فروخت ، ’ایم ایم یو“ کا شدید اظہار برہمی

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں مختلف دینی جماعتوں کے اتحاد ”متحدہ مجلسِ علماء“( ایم ایم یو) نے علاقے میں آن لائن ڈیلیوری پلیٹ فارم” بلنک اٹ“ پر خنزیر کے گوشت سے تیار کردہ مصنوعات کی فروخت کے حوالے سے شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم متحدہ مجلس علماءنے ایک بیان میں کہا کہ عوام کی جانب سے شیئر کیے گئے اسکرین شاٹس اس کے نوٹس میں لائے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بلنک اٹ کی جانب سے کشمیر میں خنزیر کے گوشت کی مصنوعات فروخت کے لیے درج کی گئی ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اسلام میں خنزیر کا گوشت نہ صرف حرام ہے بلکہ اس کی خرید و فروخت اور استعمال کے حوالے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات نہایت حساس ہیں۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس طرح ایسی مصنوعات کو کشمیر کی مارکیٹ میں فروخت کے لیے لانے کی اجازت دی گئی؟ اس معاملے کی متعلقہ حکام کی جانب سے سنجیدہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں سخت تنبیہ کی جانی چاہیے۔مجلس نے بلنک اٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر خنزیر کے گوشت سے متعلق تمام مصنوعات اپنے اسٹاک اور فروخت کی فہرست سے ہٹائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ آئندہ کشمیر میں نہ ایسی مصنوعات ذخیرہ کی جائیں گی نہ ان کی تشہیر کی جائے گی اور نہ ہی انہیں فروخت کیا جائے گا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کشمیر میں کاروبار کرنے والی تمام کمپنیوں اور تجارتی اداروں پر لازم ہے کہ وہ خطے کی مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی حساسیت کا مکمل احترام کریں اور اپنی کاروباری سرگرمیوں میں ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ کریں۔





