ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت میں سی جے پی کے احتجاج کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کی تصدیق

نئی دہلی : ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دہلی اور بہار میں کاکروچ جنتا پارٹی کی زیر قیادت ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کریک ڈاون کے ایک ماہ بعد بھی دہلی پولیس کے کسی ایک افسر کو جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی کی” ایویڈنس لیب“ نے دہلی سے 17 اور بہار کے علاقے سیوان سے 2 ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں 20 سے 24 جولائی کے دوران مظاہرین کے خلاف پیلٹ فائر کرنے والی شاٹ گنوں، آنسو گیس، لاٹھیوں اور بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات کا استعمال دیکھا جاسکتاہے۔ایمنسٹی نے کہا کہ ویڈیوز اور تصویری شواہد میں ریپڈ ایکشن فورس کے ایک اہلکار کو وسطی دہلی میں ایک ہجوم پر شاٹ گن سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ مظاہرین کو ایسے زخم آئے جو پرندوں کے شکار کے لیے استعمال ہونے والی گولیوں کے زخموںسے ملتے جلتے ہیں۔ مظاہرے میں شامل ایک شخص کے جسم پر 25 سے 30 پیلٹ کے زخم تھے۔ انسانی حقوقِ کی تنظیم نے ایسی ویڈیو فوٹیج کی بھی تصدیق کی جس میں آنسو گیس کے گولے براہِ راست مظاہرین کی جانب فائر کیے جارہے ہیں، جبکہ پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکار بظاہر پ±رامن مظاہرین کو لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بناتے نظر آئے جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، ۔ تنظیم نے مزید بتایا کہ ریپڈ ایکشن فورس کے ایک اہلکار نے مظاہرے میں شامل ایک شخص کے خلاف بجلی کا جھٹکا دینے والی لاٹھی استعمال کی، جبکہ سادہ لباس میں ملبوس افراد مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور وردی میں موجود اہلکاروں نے مداخلت نہیں کی۔
بہار کے علاقے سیوان میں ایمنسٹی نے ایسی فوٹیج کی بھی تصدیق کی جس میں ریاستی پولیس کا ایک اہلکار مظاہرین پر اے کے طرز کی رائفل سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ایسا آتشیں اسلحہ صرف زندگی کو لاحق فوری خطرے یا سنگین زخمی ہونے کے خطرے سے نمٹنے کے لئے انتہائی آخری اقدام کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس فوٹیج میں ایسے کسی خطرے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ایمنسٹی نے کہا کہ حکام نے مظاہروں کے اردگرد انٹرنیٹ کی بندش، رکاوٹیں، ٹرانسپورٹ پر پابندیاں اور امتناعی احکامات بھی نافذ کیے تھے۔ تنظیم کا کہناہے کہ پتھراو¿ کے اکا دکا واقعات بڑے پیمانے پر طاقت کے استعمال کا جواز فراہم نہیں کرتے ۔دہلی پولیس نے غیر متناسب طاقت کے استعمال کی تردید کرتے ہوئے مظاہروں سے نمٹنے کے اپنے طریقہ کار کو پیشہ ورانہ قرار دیا، تاہم ایمنسٹی نے کہا کہ اس کے شواہد پولیس کے مو¿قف سے متصادم ہیں۔ تنظیم نے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی اور ان واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔







