مضامین

سید علی گیلانی: ایک روشن باب اور بھارت کے خلاف اہل کشمیر کی بے مثال مزاحمت کی علامت


تحریک آزادی کشمیر کے قائد،مزاحمت کار اور آخری دم تک غاصب بھارت کے خلاف برسر پیکار رہنے والے سید علی گیلانی کی آواز کو خاموش ہوئے پورے پانچ برس ہوچکے ہیں ۔وہ 2021 میں آج ہی کے دن حیدر پورہ سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر ایک دہائی سے زائد طویل عرصہ نظر بند ی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔بھارتی سفاکوں نے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول کر ان کی میت بندوق کے بل پر اپنے قبضے میں لیکر بے شرمی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں ہی ان کی تدفین کی تھی۔حالانکہ وہ مزار شہدا سرینگر میں تدفین کی وصیت بہت پہلے کرچکے تھے۔ بلاشبہ سید علی گیلانی کو بھارت کے وحشیانہ جبر کے خلاف مزاحمت کے ایک انمول جذبے کیلئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔وہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کا مظہرہیں۔کشمیری عوام کیلئے سید علی گیلانی بھارتی قبضے کے خلاف عوامی مزاحمت کی علامت تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔سید علی گیلانی ایک مشن اور تحریک کا نام ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کے خاتمے کیلئے برسر پیکار کشمیری عوام ان کے مشن پر آج بھی گامزن بھارت سے آزادی کی منزل ضرورحاصل کریں گے۔سید علی گیلانی نے تنازعہ کشمیر پر اپنے غیر متزلزل موقف کے باعث چودہ برس سے زائد عرصہ بھارتی جیلوں میں گزارا۔سید علی گیلانی مقبوضہ جموں و کشمیر کا پاکستان کیساتھ الحاق کے پرزور حامی اور وکیل تھے۔سید علی گیلانی نے پوری زندگی اپنے عوام اور ان کے حق خودارادیت کیلئے لازوال اور بے مثال جدوجہد کی اور وہ بلا شبہ اہل کشمیر کی مستند شدہ آواز ہیں۔
سید علی گیلانی محض ایک فرد، سیاسی رہنما یا حریت فکر کا نام نہیں بلکہ کشمیری عوام کی مزاحمت، حقِ خودارادیت اور بھارتی قبضے کے خلاف غیر متزلزل جدوجہد کی ایک پوری تاریخ کا نام ہے۔ ان کی شخصیت، نظریات، سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کی بازگشت آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں سنائی دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے عوام کے حقِ خودارادیت کیلئے وقف کی اور اپنی آخری سانس تک اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔
سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 کو شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں ان کا خاندان سوپور منتقل ہوگیا۔ انہوں نے اورینٹل کالج لاہور سے ادیب عالم جبکہ کشمیر یونیورسٹی سے ادیب فاضل اور منشی فاضل کی اسناد حاصل کیں۔ 1949 میں بحیثیت استاد عملی زندگی کا آغاز کیا اور تقریباً بارہ برس تک مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ مذہبی اور دنیاوی تعلیم کے امتزاج نے ان کی شخصیت کو ایک منفرد فکری بنیاد فراہم کی، جس کا اثر ان کی پوری زندگی اور سیاسی جدوجہد میں نمایاں رہا۔
سید علی گیلانی کم عمری ہی سے جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے وابستہ ہوگئے اور 1953 میں جماعت کے رکن بنے۔ مختلف تنظیمی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے قائم مقام امیر جماعت اسلامی تک کا منصب سنبھالا۔ ان کی سیاسی زندگی کا ایک بڑا حصہ بھارتی حکمرانوں کی جانب سے گرفتاریوں، قید و بند اور پابندیوں میں گزرا۔ وہ پہلی مرتبہ 28 اگست 1962 کو گرفتار ہوئے اور تیرہ ماہ بعد انہیں جیل سے رہائی ملی۔ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے اور 1972، 1977 اور 1987 میں حلقہ سوپور سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ تاہم 30 اگست 1989 کو وہ اسمبلی کی رکنیت سے ہمیشہ کیلئے مستعفیٰ ہوگئے ۔ ان کے نزدیک مسئلہ کشمیر محض انتخابی سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی قومی اور انسانی مسئلہ تھا، جس کا حل کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔

سید علی گیلانی کا سیاسی موقف ہمیشہ واضح، دوٹوک اور غیر متزلزل رہا۔ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے پرزور حامی تھے اور ان کا مشہور نعرہ "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” کشمیری عوام میں ایک معروف سیاسی نعرے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ان کے نزدیک مقبوضہ جموں و کشمیر کی مذہبی، تہذیبی، تاریخی، جغرافیائی اور معاشرتی وابستگیاں پاکستان کے ساتھ گہری تھیں۔ اسی موقف کی بنیاد پر انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کو اپنی زندگی کا بنیادی مقصد بنایا۔1993میں سرینگر میں ایک فوجی بنکر کے سامنے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ جب وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا پاکستان کیساتھ الحاق کی بات کرتے ہیں ،تو اس کی بہت ساری وجوہات ہیں،سرینگر مظفر آباد سڑک شدید بادو باراں کے باوجود کبھی بند نہیں ہوئی۔جب بارشیں برستی ہیں تو ایک ساتھ برستی ہیں،جب ہوائیں چلتی ہیں تو ایک ساتھ چلتی ہیں،چاند کا مطلع ایک ساتھ کا مطلع ہوتا ہے۔ہماری ثقافت،مذہبی روایات،رہن سہن ،بود و باش ،زبان ،لباس،کھانا پینا ایک ہی ہے،ہمارے دریا پاکستان کی طرف بہتے ہیں، لہذا اس تناظر میں سید علی گیلانی کہتے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔
7 اگست 2004 کو انہوں نے اپنی سیاسی جماعت تحریک حریت جموں و کشمیر داغ بیل ڈالی اور اس کے پہلے سربراہ منتخب ہوئے۔ بعدازاں 19 مارچ 2018 کو انہوں نے اپنی زندگی ہی میں محمد اشرف خان صحرائی کو تحریک حریت کی قیادت سونپی۔ اس سے قبل وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے تاحیات چیئرمین بھی رہے۔ ان کی سیاسی زندگی کا یہ سفر اس بات کا عکاس تھا کہ وہ تنظیمی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اپنے بنیادی نظریے پر قائم رہے۔
سید علی گیلانی صرف میدان سیاست کے ہی شہسوار نہ تھے۔ وہ علم و ادب سے گہرا شغف رکھنے والی صاحبِ مطالعہ شخصیت بھی تھے اور متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ اپنی اسیری کے تجربات کو انہوں نے "رودادِ قفس” جیسی تصنیف میں محفوظ کیا۔ قرآن و حدیث، سیرت اور اسلامی فکر پر ان کی گفتگو میں گہری علمی بصیرت دکھائی دیتی تھی، جبکہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سے ان کی خصوصی عقیدت معروف اور واضح تھی۔ وہ معروف عالمی اسلامی فورم رابطہ عالم اسلامی کے رکن بننے والے اولین کشمیری حریت رہنماو¿ں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان سے قبل سید ابو الاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی علمی شخصیات برصغیر سے "رابطہ عالم اسلامی” فورم کی رکن رہ چکی ہیں۔
ان کی زندگی کا بڑا حصہ بیماری، قید اور پابندیوں کے باوجود جدوجہد میں گزرا۔ انہیں مختلف جسمانی عوارض کا سامنا رہا، مگر بیماری اور بڑھتی عمر بھی ان کے عزم کو متزلزل نہ کرسکی۔ بھارتی حکومت نے انہیں طویل عرصے تک گھر میں نظربند رکھا، ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیں اور انہیں بنیادی حقوق سے محرومی کا سامنا رہا۔ اس طویل قید کے دوران بھی ان کا سیاسی موقف تبدیل نہ ہوا۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہی تھا کہ وہ سمجھوتے کے بجائے اپنے اصولوں پر قائم رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔
ان کی ثابت قدمی کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی کرتے تھے۔ فاروق عبداللہ کا ایک بھارتی ٹی وی چینل کو دیا گیا بیان اس حوالے سے قابل ذکر ہے جس میں انہوں نے اختلافات کے باوجود اس امر کا اعتراف کیا کہ سید علی گیلانی کے نظریات کو پیسوں کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہی استقلال ان کی سیاسی شخصیت کی سب سے بڑی پہچان تھا۔سید علی گیلانی کی جدوجہد کو عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی۔حکومت پاکستان نے 14 اگست 2020 کو انہیں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازا۔ یہ اعزاز ان کی طویل سیاسی جدوجہد اور مسئلہ کشمیر پر ان کے نمایاں کردار کے ریاستی سطح پر اعتراف کی علامت سمجھا گیا۔
یکم ستمبر 2021 کو سید علی گیلانی حیدرپورہ سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال سے قبل طویل عرصے تک گھر میں نظر بندی نے ان کی صحت کو شدید متاثر کیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد قابض بھارتی حکام کی جانب سے ان کی تدفین کے انتظامات اور اہل خانہ کے ساتھ سفاکانہ برتاو پر بھی شدید تنقید سامنے آئی۔ ان کے خاندان اور حامیوں کے مطابق ان کی خواہش تھی کہ انہیں مزارِ شہدا، سرینگر میں سپردِ خاک کیا جائے، تاہم ان کی میت کو بھارتی درندوں نے اپنی تحویل میں لے کر حیدرپورہ میں رات کی تاریکی میں تدفین کردی۔یوں ایک ایسے رہنما کے آخری سفر پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں جس نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کے سیاسی حقوق کیلئے جدوجہد میں وقف کی تھی۔
سید علی گیلانی نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بھارتی پالیسیوں، آبادیاتی تبدیلی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے بارہا خبردار کیا تھا۔ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے اور اس کے بعد غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل فراہم کرنے کی پالیسیوں نے ان خدشات کو مزید نمایاں کردیا۔ ان کے نزدیک آبادی کے تناسب اور شناخت میں تبدیلی مسئلہ کشمیر کی بنیادی نوعیت کو متاثر کرنے کی کوشش تھی۔
ان کی سیاسی جدوجہد کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ طاقت، جبر اور فوجی دباو¿ کسی قوم کے سیاسی ارادے کو مستقل طور پر ختم نہیں کرسکتے۔ اسی لیے وہ گرفتاریوں، نظربندیوں، چھاپوں اور پابندیوں کے باوجود اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ اکثر بھارتی فوجیوں اور قابض حکام کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھاتے تھے کہ وہ ایک ایسی جمہوریت کے نام پر کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے کیوں محروم کر رہے ہیں جس کے دعوے عالمی سطح پر کیے جاتے ہیں۔سید علی گیلانی نے اپنی بہت سی انقلابی اور نظریاتی تقاریر میں مسئلہ کشمیر کے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب جموں کی طرح وادی کشمیر میں بھی آبادی کا تناسب ہندوﺅں کے حق میں تبدیل کیا جائے گا تو بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں رائے شماری کیلئے تیارہو سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ مودی حکومت اپنا نوآبادیاتی منصوبہ مکمل کرنے کے بعد رائے شماری کرانے پر آمادگی ظاہر کرے گی۔ 05اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور لاکھوں غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل فراہم کرنا اسی کی طرف اشارہ ہے، جس کی نشاندہی سید علی گیلانی اپنی زندگی کے آخری ایام میں کرچکے ہیں۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی طرح سید علی گیلانی نے بھی ماضی کے واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ہندو کبھی بھی بھارت میں مسلمانوں کے وجود اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اکثریتی آبادی کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔مودی کے اقدامات نے سید علی گیلانی کے نظریات کو درست ثابت کیا ہے۔
تاریخ میں بعض شخصیات اپنے عہد سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کیلئے حوالہ بن جاتی ہیں۔ سید علی گیلانی بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ ان کے ناقدین نے انہیں سخت گیر اور ان کے موقف کو غلط ٹھہرانے کی کوشش کی، مگر ان کے حامیوں کے نزدیک ان کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ قید، بیماری، نظربندی، سیاسی دباو اور جسمانی کمزوری بھی ان کے عزم کو شکست نہ دے سکی۔
سید علی گیلانی کا جسم آج ہمارے درمیان نہیں، لیکن ان کی سیاسی فکر، ان کے خطابات، ان کی تحریریں اور ان کی استقامت اہل کشمیر کی سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے بنیادی موقف کو ترک نہیں کیا اور اس اعتبار سے وہ کشمیری مزاحمت کی تاریخ میں ایک نمایاں اور لازوال کردار کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
آج ان کے پانچویں یومِ شہادت پر انہیں یاد کرنے کا مطلب صرف ایک شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنا نہیں بلکہ اس عہد کو یاد کرنا بھی ہے جس کیلئے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کی تھی۔ ان کی زندگی ہمارے لیے ایک سبق بھی ہے کہ کسی بھی تحریک میں نظریاتی استقامت، قربانی، علم اور اصول پسندی کیونکر اہم ہوتی ہے۔ سید علی گیلانی ایک فرد سے بڑھ کر ایک فکر، ایک مشن اور ایک سیاسی عہد کا نام بن چکے ہیں۔بلاشبہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنی جدوجہد میں ان کے نظریات اور قربانیوں سے حوصلہ حاصل پاتے رہیں گے۔
سید علی گیلانی دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کی آواز، ان کا مشہور نعرہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے اور ان کی جدوجہد کی یاد آج بھی زندہ ہے۔ تاریخ ان شخصیات کو کبھی فراموش نہیں کرتی جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر کسی بڑے مقصد کیلئے اپنی زندگی وقف کردیتی ہیں۔ سید علی گیلانی بھی انہی کرداروں میں شامل ہیں جن کا نام جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسے رہنما کے طور پر لکھا جائے گا جس نے اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا اور یوں وہ تاریخ میں امر ہوگئے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button