مقبوضہ جموں و کشمیر:بھارتی حکومت کی طرف سے جماعت اسلامی کی املاک ضبط
سرینگر : بی جے پی کی بھارتی حکومت نے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت جماعت اسلامی کی املاک ضبط کرلی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے کریک ڈائون کے دوران جماعت اسلامی جموں و کشمیر سے کی املاک کو ضبط کیا۔ ضبط کی گئی املاک میں دو منزلہ عمارتیں، چھ دکانیں اورسوپور کے علاقے دورت میں دو کنال اراضی شامل ہیں، جس پر اسلامیہ ماڈل اسکول قائم ہے۔مبصرین کے مطابق بھارتی قابض انتظامیہ کایہ اقدام تنازعہ کشمیر پر کشمیریوں کے غیر متزلزل موقف اور ان کی خواہشات کو دبانے اور انہیں معاشی طور پر کمزور کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ناقدین کے مطابق یہ ضبطیاں کالے قوانین کے تحت کی جا رہی ہیں اور اگست 2019میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد ان کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔سرینگر کے سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے ان اقدامات کو ایک سامراجی نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد کشمیریوں کو انکی اراضی سے بے دخل اور غیر کشمیری ہندوئوں کو وہاں آباد کرکے مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنا ہے ۔بھارتی قابض انتظامیہ اس سے قبل سینئر حریت رہنمائوں سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی ،جماعت اسلامی اورکل جماعتی حریت کانفرنس کے ہیڈ کوآرٹرسمیت آزادی پسند رہنمائوں اور تنظیموں کی املاک اور جائیدادوں کو ضبط کر چکی ہے ۔ اس کے علاوہ متعددکشمیریوں کے رہائشی مکانات، دکانیں اور تجارتی عمارتیں مسمار بھی کی گئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کشمیریوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں تحریک آزادی کی حمایت سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا ہے۔ ان کا خبردار کرنا ہے کہ ان اقدامات سے کشمیری عوام کابھارت کے خلاف غم و غصہ اوردوریاں مزید بڑھیں گی۔






