بھارت :بی جے پی کے زیر اقتدار مغربی بنگال میں دو ماہ کے دوران مسیحیوں پر15 حملے
کولکتہ:بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسیحی برادری کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز ہواہے جہاں دو ماہ کے دوران مسیحیوں پر15 حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
دو ماہ کے دوران گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ، دعائیہ تقاریب میں مداخلت، پادریوں اور عبادت گزاروں پر حملے جبکہ ایک مسیحی شخص کی تدفین میں بھی رکاوٹ ڈالنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔مسیحی برادری کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور بزدلانہ حملوں نے بی جے پی حکومت کے دور میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور انہیں عبادت اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس اور مسیحیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی نگرانی کرنے والی تنظیموں کے مطابق جولائی اور اگست 2026کے دوران مغربی بنگال کے مختلف علاقوں میں مسیحیوں پر کم از کم 15 حملے رپورٹ ہوئے۔ یہ واقعات جنوبی 24پرگنہ، مشرقی بردوان، مغربی مدناپور، بانکوڑہ، شمالی 24پرگنہ، ہاوڑہ اور مشرقی مدناپور سمیت کئی اضلاع میں پیش آئے۔
پہلاواقعہ 4جولائی کو مغربی مدناپور کے علاقے پلباری میں پیش آیا، جہاں ایک نو بیاہتا مسیحی جوڑے کی جانب سے منعقدہ تقریب اور استقبالیہ میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ ہندو انتہاپسندوں نے تقریب میں شریک خواتین کو جن میں مسیحی اور ہندو خواتین شامل تھیں، ہراساں کیا۔ پولیس نے خلل ڈالنے والوں کو روکنے کے بجائے اجتماع میں شریک پادری ریورنڈ انوپ گھوش کو حراست میں لیا۔5
جولائی کو مغربی بنگال میں چار الگ الگ واقعات رپورٹ ہوئے ۔جنوبی 24پرگنہ میں سبھاش گرام کے علاقے بوری بوٹ تلا میں زیر تعمیر چرچ میں ہندو ہجوم نے توڑ پھوڑ کی۔رپورٹس کے مطابق تقریبا 100 افراد اس وقت وہاں جمع ہوئے جب چرچ میں رنگ و روغن کا کام جاری تھا۔ ہجوم نے چرچ کا دروازہ توڑ دیا، ستونوں اور تالوں کو نقصان پہنچایا اور عمارت میں داخل ہو کر موسیقی کے آلات کو نقصان پہنچایا گیااورچھت پر نصب تین صلیبیں اتار دیں۔ بعض مقامی رہائشیوں نے کہا کہ ہندو جاگرن منچ کے ارکان بھی اس کارروائی میں شامل تھے۔اس موقع پر جے شری رام کے نعرے لگائے گئے جبکہ حملہ آوروں نے چرچ پر مذہب کی تبدیلی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔اسی روز پوربا بردوان کے علاقے فریدپور میں گریس چرچ میں اتوار کی عبادت کے دوران ایک ہندو ہجوم چرچ میں داخل ہوا اور پادری سورجیت گھوش اور عبادت گزاروں پر حملہ کیا۔ مرشدآباد میں مسیحی بیوہ برنالی چٹرجی کے گھر پر بھی ہندو انتہاپسندوں نے حملہ کیا اور ان کے سامان کو نقصان پہنچایا۔مسیحی تنظیموں کے مطابق حملے میں ملوث افراد نے انہیں مسیحیت ترک کرنے اور اپنی جائیداد حوالے کرنے پر مجبور کیا۔ایک اور واقعے میں بانکوڑہ میں مسیحیوں کے ایک دعائیہ اجتماع میں ہندو انتہا پسند داخل ہوئے، بائبل کی کتابیں اپنے قبضے میں لیں اور خواتین اور بچوں سمیت عبادت گزاروں کو کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا۔12 جولائی کوشمالی 24پرگنہ کے علاقے بارسات میں ”ڈاٹرز آف میری ہیلپ آف کرسچنز”، جنہیں عام طور پر سیلزین سسٹرز کہا جاتا ہے، سے متعلق ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔ سسٹرز اور کیتھولک تنظیموں کے مطابق تقریبا 60 افراد ان کی جائیداد میں داخل ہوئے اور زیر تعمیر یادگاری عبادتگاہ اور قبرستان کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہندو انتہاپسندوں نے مطالبہ پورا نہ کرنے کی صورت میں تشدد کی دھمکی دی۔ سسٹرز نے کہا کہ انہیں زبانی طور پر دھمکایا اور توہین کا نشانہ بنایا گیا۔
26 جولائی کوجنوبی 24پرگنہ میں وشوا ہندو پریشدکے کارکنوں نے ایک نجی گھر میں مسیحیوں کی تقریب پرحملہ کیا ۔حملہ آوروں نے مقدس کتابوں کو تباہ کیااوردیگر مذہبی مواد کو نقصان پہنچایا،عبادت گزاروں کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اورگھر کے بعض حصوں پر زعفرانی رنگ پھینکا۔31جولائی کو ایک شخص گریس کمیونٹی کے چرچ میں داخل ہواجس نے زعفرانی لباس پہن رکھا تھا اور خود کو وشوا ہندو پریشد کا عہدیدار بتارہاتھا۔
سب سے متنازعہ واقعہ14 اگست کو پوربا بردوان کے علاقے سہانگر میں سینٹ کلیئرٹ چرچ سے وابستہ ایک مسیحی خاتون کی تدفین کے دوران پیش آیا جب ہندو انتہاپسندوں نے سوگواروں کو قبر سے میت نکالنے پر مجبور کیا۔23 اگست کو ہاوڑہ کے اولوبیریا میں ایک کرائے کے مکان میں ایک دعائیہ تقریب پر ہندو انتہاپسندوں نے حملہ کیا۔ مکان میں توڑ پھوڑ کی اور ساونڈ سسٹم، ڈائس، میز، کرسیوں اور چھت کے پنکھوں کو نقصان پہنچایا۔25 اگست کو ہاوڑہ کے علاقے گھسوری میں چرچ آف دی گریس سے وابستہ ایک نجی رہائش گاہ میں عبادت گزاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔26 اگست کو مشرقی مدناپور میں ہندو انتہاپسندوں نے پادری جوئے سوترا دھر اور ان کی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
30اگست کو ہاوڑہ کے جگت بلبھ پور اور شمالی 24 پرگنہ کے ہنگل گنج میں دعائیہ تقریبات پر حملے کئے گئے۔جولائی اور اگست 2026کے دوران مغربی بنگال میں رپورٹ ہونے والے یہ واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست میں مسیحیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔مسیحی تنظیموں نے ان واقعات کو مغربی بنگال میں مسیحیوں کے خلاف دشمنی اور ہراسانی کے وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا ہے۔








