بھارت

بھارت میں مودی حکومت کی ہندوتوا پالیسی کے نفاذ میں تیزی

نئی دہلی:بھارت میں مودی حکومت نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مہم تیز کر دی ہے، جسے ناقدین اقلیتوں کے شخصی قوانین کو محدود کرنے اور آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسی کے نفاذ کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ این ڈی اے کے زیرِ اقتدار 21 ریاستوں میں 2029 سے پہلے یو سی سی کو آگے بڑھایا جائے گا۔اس اقدام سے تقریباً 20 کروڑ مسلمانوں، 2 کروڑ 80 لاکھ عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے شادی، طلاق، وراثت اور خاندانی قوانین متاثر ہو سکتے ہیں۔یکساں سول کوڈ شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور نان نفقہ کے لیے مذہب سے قطع نظرتمام مذاہب کےما ننے والوں کیلئے یکساں سول قوانین متعارف کراتا ہے۔اہم شقوں میں ایک شادی، شادی کی لازمی رجسٹریشن، بیٹے اور بیٹی کو مساوی وراثت، کثرتِ ازدواج اور حلالہ پر پابندی، اور لیو اِن ریلیشن کی رجسٹریشن شامل ہیں ۔اتراکھنڈ میں یو سی سی نافذ ہو چکا ہے، جبکہ آسام، گجرات اور بی جے پی کے زیراقتداردیگر ریاستیں بھی اسی راستے پر آگے بڑھ رہی ہیں۔یو سی سی مسلم پرسنل لا کے کئی اصولوں کو یکساں سول قوانین سے تبدیل کیاگیا ہے، خصوصاً شادی، طلاق، وراثت اور نان نفقہ کے معاملات میں۔تعددِ ازدواج پر پابندی مسلم پرسنل لا میں مخصوص شرائط کے تحت ایک سے زائد شادی کی گنجائش سے متصادم ہے۔نکاحِ حلالہ اور عدت سے متعلق بعض قانونی اثرات پر پابندیاں روایتی مسلم عائلی قانون سے اختلاف پیدا کرتی ہیں۔بیٹے اور بیٹی کے لیے مساوی وراثت اسلامی قانونِ وراثت کے مقررہ حصوں سے مختلف ہے، جہاں حصے رشتے اور حالات کے مطابق متعین ہوتے ہیں۔یکساں طلاق کے قواعد نکاح اور طلاق سے متعلق مسلم پرسنل لا کے مخصوص طریقۂ کار کی جگہ مشترکہ سول طریقۂ کار لاتے ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، کانگریس، آل انڈیامجس اتحاد المسلمین ، ڈی ایم کے اور سی پی آئی (ایم) سمیت تنظیموں نے یکساں سول کوڈ کو مذہبی آزادی، کثرتیت اور نجی زندگی کے لیے خطرہ اور سیاسی تقسیم کا ذریعہ قرار دیاہے۔21ویں لاء کمیشن نے 2018 میں کہا تھا کہ اس مرحلے پر یو سی سی ’’نہ ضروری ہے، نہ مطلوب‘‘ اور مختلف پرسنل لاز میں الگ الگ اصلاحات کو ترجیح دی تھی۔اے آئی ایم پی ایل بی کا مؤقف ہے کہ ایسی تبدیلیاں شریعت اور مسلم پرسنل لا میں مداخلت ہیں اور مذہبی آزادی کے آئینی سوالات پیدا کرتی ہیں۔مودی کے بھارت میں آئے روز اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد، انتقامی ’بلڈوزر‘ کارروائیوں، شہریت کی پالیسیوں، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے لیے سکڑتی ہوئی قانونی و شہری گنجائش کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیمیں پہلے ہی تحفظات ظاہر کرتی رہی ہیں۔اگر ’ایک قانون‘ کے نام پر اقلیتوں کی مذہبی اور قانونی گنجائش محدود ہوتی ہے تو یو سی سی کو محض اصلاح نہیں بلکہ ہندوتوا کے تحت ثقافتی اور قانونی یکسانیت مسلط کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ناقدین کے مطابق مودی حکومت میں یکساں سول کوڈ کے ذریعے ہندوتوا ایجنڈا آگے بڑھایا جا رہا ہے اور مساوات کے نام پر اقلیتوں کی مذہبی آزادی، شخصی قوانین اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کو ختم کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصول، بالخصوص بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکلز 18 اور 27 مذہبی آزادی اور اقلیتوں کی مذہبی، لسانی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ سے متعلق حقوق تسلیم کرتے ہیں۔ناقدین کے مطابق بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ’زیرو ٹالرنس‘ اور ’ایک سول قانون‘ کی سیاسی زبان استعمال کی جو اقلیتوں کے لیے ایک تھریٹ الرٹ ہے.

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button