جنیوا: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کیلئے خصوصی نمائش کا انعقاد
جنیوا: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے موقع پر ایک کشمیری وفد نے عالمی برادری کی توجہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی جانب مبذول کرانے کے لیے ایک خصوصی نمائش کا اہتمام کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نمائش کا بنیادی مقصد دنیا کو بتانا تھاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فورسز بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی کھلے عام پامالیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، بلکہ بھارت اب مقبوضہ علاقے کی منفرد ثقافت اور شناخت کو بھی مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔نمائش کے دوران خصوصی بینرز اور پوسٹرز لگائے گئے جن کے ذریعے غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری رہنمائوں کی حالت زار اور مظلوم کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی عکاسی کی گئی ۔آرٹ کے ذریعے کشمیر کی موجودہ صورتحال کو اجاگر کیا گیا تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔نمائش میں ایک خصوصی ٹینٹ اور کشمیری کلچر و دستکاریوں کا سٹال بھی لگایاگیا۔ اس سٹال کے ذریعے کشمیر کی بھرپور ثقافت، روایات ، فن اوردستکاریوں کو اجاگر کیا گیا ہے جو صدیوں سے کشمیریوں کی پہچان ہیں۔کشمیری وفد کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نہ صرف کشمیریوں کے سیاسی اور انسانی حقوق کی پامالی کر رہی ہے بلکہ اب وہ ایک ثقافتی یلغار کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی منفرد شناخت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔یہ نمائش اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری قوم اپنی ثقافت، شناخت اور آزادی کے حق پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔کشمیری وفد نے اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت فراہم کرنے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالیں۔









