بھارت

بھارتی فوج میں کرپشن اور دھوکہ دہی کے نئے الزامات

ای ایم ای کور کے جونیئر کمشنڈ آفیسر پر شہریوں سے لاکھوں روپے ہتھیانے کاالزام

اسلام آباد:بھارتی فوج میں مالی بدعنوانی، دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے واقعات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ تازہ واقعے میں کور آف الیکٹرانکس اینڈ مکینیکل انجینئرز کے ایک افسر پر شہریوں سے لاکھوں روپے ہتھیانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، مذکورہ جونیئر کمشنڈ آفیسر 304فیلڈ ورکشاپ کمپنی کے ٹیکنیکل اسٹور سیکشن میں انچارج کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ چارج شیٹ میں اس کے خلاف شہریوں سے رقم ہتھیانے سمیت چھ سنگین الزامات شامل ہیں۔
ملزم کے خلاف آرمی ایکٹ 1950 کی دفعہ 69 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ جنرل آفیسر کمانڈنگ 71 انفنٹری ڈویژن میجر جنرل این ایس سوہل نے اس کے کورٹ مارشل ٹرائل کی توثیق کر دی ہے۔ تاہم، متاثرہ شہریوں کے نام اور مبینہ طور پر ہتھیائی گئی رقوم کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔
بھارتی دفاعی اداروں میں مالی بے ضابطگیوں، اسلحے کی چوری اور فوجی بھرتیوں میں رشوت کے دیگر واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
31اگست 2026 کو سکندرآباد چھانی سے جدید203رائفلوں کی چوری کا واقعہ پیش آیا، جس میں فوجی اہلکاروں کے ملوث ہونے کا دعوی کیا گیا۔ اگست 2026 میں طبی آلات کی خریداری میں لیفٹیننٹ کرنل ڈی ماجی پر تین کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے۔
2021میں بھارتی تحقیقاتی ادارے ‘سی بی آئی’نے فوجی بھرتیوں میں مبینہ رشوت اور بے ضابطگیوں کے معاملے میں 17 فوجی اہلکاروں کو نامزد کیا تھا۔ ان میں پانچ لیفٹیننٹ کرنل، ایک میجر اور دیگر اہلکار شامل تھے۔
اسی طرح 2018کے آدرش ہاسنگ اسکینڈل میں فوجی افسران کی جانب سے فوجیوں کی بیواں کے لیے مختص قیمتی زمین پر تعمیر کیے گئے رہائشی منصوبے میں فلیٹس حاصل کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔
ان واقعات سے ثابت ہوتاہے کہ حساس بھارتی فوجی اداروں میں ملی بھگت، مالی بدعنوانی اور اختیارات کا غلط استعمال معمول کی بات ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button