بھارت

دلی پولیس کل جنتر منتر پر احتجاج کو روکنے کیلئے غیر آئینی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، ماہرین تعلیم

نئی دہلی: بھارتی ماہرینِ تعلیم، محققین، سول سوسائٹی کے اراکین اور سماجی کارکنوں کے ایک گروپ نے دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار چیف الیکشن کمشنر گیانش کمار کے خلاف کل 10 اکتوبر کو ہونے والے طے شدہ احتجاج میں لوگوں کو شرکت سے روکنے کے لیے "غیر آئینی اور مجرمانہ دباو¿ کے ہتھکنڈے” استعمال کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، دستخط کنندگان میں سیاسی کارکن یوگیندر یادو، ماہر تعلیم اپوروانند، ماہر معاشیات جیاٹی گھوش اور سابق سفارت کار گوتم مکھوپادھیائے بھی شامل ہیں ۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ پولیس اہلکار کالجوں، مساجد، رہائشی بہبود کی انجمنوں اور دیگر عوامی مقامات کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ شہریوں کو دارالحکومت میں پرامن مظاہروں میں شامل ہونے سے باز رکھا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس حکام کرائے پر رہائش کی سہولیات فراہم کرنے والوں سے رابطہ کر رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے کرایہ داروں کو احتجاج میں شرکت کرنے سے روکیں۔
دستخط کنندگان نے ‘بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا’ کی دفعہ 163 کے نفاذ پر اعتراض کیا اور دلیل دی کہ پورے شہر کو احتجاج کے لیے ممنوعہ قرار دینا آئینی حقوق کو کمزور کرنے کے لیے قانونی اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔
پولیس کے اقدامات کو شہریوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو ان کے جمہوری انتخاب اور پرامن اجتماع کے بنیادی حق کے استعمال سے روکنا ناقابل قبول ہے۔خط میں خبردار کیا گیا کہ پولیس کے ایسے اقدامات مجرمانہ دھمکی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
گروپ نے پولیس کمشنر پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پولیس فورس فوری طور پر ان اقدامات کو بند کرے جنہیں انہوں نے غیر آئینی اور مجرمانہ دباو¿ کے ہتھکنڈے قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ احتیاطی گرفتاریوں، حراست، تشدد، نظر بندی یا اسی طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعے لوگوں کو پرامن مظاہروں میں شرکت سے روکنے کی کسی بھی کوشش کو عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس کو اس طرح کی کسی بھی غیر قانونی کارروائی اور اس کے نتائج کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
دیگر دستخط کنندگان میں ماہرینِ تعلیم رادھا کمار، مریدولا مکھرجی، راجیو بھارگو، زویا حسن اور آدتیہ مکھرجی؛ اور سابق سفارت کار امیتابھ پانڈے دفاعی تجزیہ کار سی ادے بھاسکر، اشوک کمار شرما، کامنی ٹنکھا اور شفافیت کی علمبردار کارکن انجلی بھاردواج شامل ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button