بھارتی تارکین وطن دھوکہ دہی ، جنسی جرائم ، ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین جرائم کیوجہ سے اپنے ملک کی شدید رسوائی کا باعث بن رہے ہیں
اسلام آباد : بھارتی تارکینِ وطن فراڈ ، دھوکہ دہی ،جنسی جرائم اور دیگر اپنی دیگر بد اعمالیوں کیو جہ دن بہ دن اپنے ملک کی بدنامی اور اسکی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا، تحقیقی رپورٹوں اور مختلف ممالک کے سرکاری اداروں کی جانب سے حالیہ برسوں میں چند ایسے سنگین معاملات سامنے لائے گئے ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر بھارت کے تشخص کو شدید متاثر کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی شہریوں اور ان سے جڑے گروہوں کے خلاف جنسی ہراسانی، لڑکیوں کو ورغلا کر ان کا جنسی استحصال کرنے، مالی فراڈ، منی لانڈرنگ، ٹارگٹ کلنگ اور ویزا قوانین کی خلاف ورزی جیسے کئی مقدمات سامنے آئے ہیں۔ بھارتی تارکین وطن شہری دوسرے ملکوں کی ثقافت پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور اپنے کی رسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔ مختلف ممالک نے امیگریشن کے قوانین سخت کرتے ہوئے اب بھارتی شہریوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔
کینیڈا کی جانب سے 2025 میں بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے لے کر، جس پر قتل، بھتہ خوری اور منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، امریکہ کے 2026 کے آپریشن ہارڈ بال تک، کئی سنگین معاملات سامنے آئے ہیں، جس میں 24 افراد کو گرفتار کیا گیا اور ایک ایسے بین الاقوامی نیٹ ورک کے 37 ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی جس پر بیرونِ ملک بھارتی برادریوں کو خوف زدہ کرنے کا الزام ہے، جبکہ یہ دعوی بھی کیا جاتا ہے کہ بھارت کی جیلوں سے چلنے والے جرائم پیشہ گروہ بیرونِ ملک اپنے رابطوں کے ذریعے سرگرم ہیں۔
حالیہ برسوں میں مغربی ممالک کی سرزمین پر بھارتی نیٹ ورکس کی جانب سے کی جانے والی مجرمانہ سرگرمیوں نے دنیا کو حیران کر دیا ہے ۔کینیڈا کی حکومت اور رائل کینیڈین مانٹڈ پولیس نے سرکاری سطح پر بھارت پر کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجرکے قتل اور سکھ برادری کے دیگر افرادکو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے نیویارک میں ایک امریکی شہری کے قتل کی ناکام سازش کا پردہ چاک کیا، جس میں مبینہ طور پر ایک بھارتی سرکاری افسر ملوث تھا۔
بھارتی انٹیلیجنس ایجنٹس نے مقامی جرائم پیشہ گینگز جیسے لورنس بشنوئی گروپ کو کینیڈا میں مقیم بھارتی نژاد شہریوں کو ڈرانے، دھمکانے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔کئی ملکوں میں بھارتی شہریوں اور ایجنٹوں کے ذریعے بڑے پیمانے ویزا اسکامز پکڑے گئے ہیں۔ کینیڈا میں سینکڑوں بھارتی طلبہ کو اس وقت ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا جب یہ انکشاف ہوا کہ بھارتی ٹریول ایجنٹوں نے انہیں کینیڈا کے تعلیمی اداروں کے فرضی اور جعلی ایڈمیشن لیٹرز فراہم کر کے ویزے دلائے تھے۔
برطانیہ اور کئی یورپی ممالک میں "اسٹڈی ویزا” کا سہارا لے کر غیر قانونی طور پر روزگار حاصل کرنے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس چلانے میں ملوث بھارتی گروہ بے نقاب ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان ممالک نے ویزا قوانین سخت کر دیے ہیں۔
بھارت میں قائم غیر قانونی کال سینٹرز دنیا بھر خصوصا امریکہ، برطانیہ اور کینیڈاکے معمر شہریوں کو ٹیکنیکل سپورٹ یا ٹیکس افسر بن کر اربوں ڈالرز کا چونا لگا چکے ہیں، جس پر امریکی ایف بی آئی (ایف بی آئی )کو بھی مداخلت کرنی پڑی۔
کئی ممالک میں بڑی تعداد میں بھارتی تارکینِ وطن کی آمد اور وہاں کے مقامی قوانین و ثقافت کا احترام نہ کرنے پر تنازعات کھڑے ہوئے ہیں۔ کینیڈا کے مختلف شہروں جیسے بریمپٹن اور سرے میں بھارتی تارکینِ وطن کے بڑے مجمعے، سڑکوں پر ہلڑ بازی، اور ہندو-سکھ برادریوں کے مابین پرتشدد تصادم کی وجہ سے کینیڈا کے مقامی باشندوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی شہری اپنے ملک کی سیاست اور نفرت انگیز نظریات کے ذریعے ان کے پرامن معاشرے کو پراگندہ کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے شہر میلبورن اور برطانیہ کے شہر لیسٹر میں ہندوتوا نظریات کے حامل گروہوں اور دیگر اقلیتوں کے درمیان گلیوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات نے ان ممالک کے امن و امان کو شدید نقصان پہنچایا۔ن بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے مغربی دنیا میں جہاں ایک طرف بھارتی سفارت کاروں کو بھی مشکل میںڈال رکھا ہے جبکہ دوسری طرف عام بھارتی شہریوں کے لیے ویزا کے حصول، امیگریشن کے عمل اور بین الاقوامی سطح پر قبولیت میں واضح مشکلات اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانیہ میں بھارتی شہریوں کے جنسی جرائم میں سزا پانے کے واقعات کی تعداد 2021 میں 28 سے بڑھ کر 2024 میں 100 ہو گئی، جو 257 فیصد اضافے کے برابر ہے ۔
ایچ-1 بی ویزا کے غلط استعمال کے الزامات نے بھی بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، کہا جا رہا ہے کہ ہر سال اس ویزے کی منظوریوں میں بھارتی شہریوں کا حصہ تقریبا 70 سے 73 فیصد ہوتا ہے، جبکہ تحقیقات میں بھارت کی 28 یونیورسٹیوں سے منسوب ایک لاکھ سے زیادہ جعلی ڈگریوں کا انکشاف ہونے کی اطلاعات ہیں، اور امریکہ کے ایک سابق قونصلر افسر نے حیدرآباد جیسے شہروں سے آنے والی ماضی کی درخواستوں میں 80 سے 90 فیصد تک فراڈ ہونے کا دعوی کیا تھا۔
یہ تمام معاملات بھارت کی عالمی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں اور دنیا بھر میں اس کے لیے موجود اعتماد کو کمزور کر رہے ہیں۔








