مقبوضہ کشمیر: حریت رہنماؤں کی نمازِ جمعہ کے یکساں خطبے سے متعلق وقف بورڈ کے فیصلے کی مذمت
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے بی جے پی کی زیرِ قیادت وقف بورڈ کی جانب سے مساجد میں نمازِ جمعہ کے لیے یکساں خطبہ مقرر کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
تحریکِ حریت جموں و کشمیر، جموں و کشمیر پیپلز لیگ، مسلم کانفرنس جموں و کشمیر اور جموں و کشمیر ینگ مینز لیگ کے چیئرمین نصیر وانی نے سرینگر میں اپنے الگ الگ بیانات میں وقف بورڈ کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مساجد عبادت کے مقدس مقامات ہیں اور نمازِ جمعہ کا خطبہ اسلامی تعلیمات اور اصولوں کے مطابق مستند علمائے دین کی رہنمائی میں دیا جانا چاہیے۔
حریت رہنماؤں نے وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی کے ساتھ ایک اجلاس میں علمائے دین کی شرکت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے علما پر زور دیا کہ وہ مذہبی اداروں کی خودمختاری کا تحفظ کریں اور ایسے کسی فیصلے کی حمایت سے گریز کریں جو اسلامی تعلیمات یا مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو متاثر کر سکتا ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ انتظامی احکامات کے ذریعے نمازِ جمعہ کے لیے یکساں خطبہ نافذ کرنے کی کوششیں، اگر اسلامی اصولوں اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے متصادم ہوئیں، تو انہیں قبول نہیں کیا جائے گا۔
بیانات میں علمائے دین، مسلم برادری اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ اسلامی تعلیمات کے منافی اس اقدام کے خلاف پُرامن انداز میں آواز بلند کریں اور جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔








