پاکستان کا اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نئی رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ: پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں اقوام متحدہ سے نئی رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر وولکر ترک کی بریفنگ کے بعد ہونے والے مکالمے کے دوران کیا۔ وولکر ترک نے کمیٹی کو بتایا کہ دنیا میں مسلح تنازعات کی تعداد 2010 کے بعد سے دوگنا ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت شدید عالمی بے یقینی، ساختی عدم مساوات اور بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کا سامنا کر رہی ہے۔ غزہ، یوکرین، سوڈان، لبنان، میانمار اور جمہوریہ کانگو سمیت تنازعات سے متاثرہ مختلف علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان مقامات پر بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
عثمان جدون نے کہا کہ کشمیری عوام مسلسل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی 2018 اور 2019 کی رپورٹس میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان رپورٹس میں آزادانہ تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب، انسانی حقوق کے اداروں کو بلا روک ٹوک رسائی دینے اور بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے قیام پر غور کرنے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم ان سفارشات پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
عثمان جدون نے ہائی کمشنر سے استفسار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اگست 2019 کے بعد کی صورتحال سمیت تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں نئی رپورٹ کب جاری کی جائے گی اور سابقہ دو رپورٹس کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے اب تک کیا ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے پاکستانی مندوب کے سوالات کا جواب تاحال موصول نہیں ہوا۔





_updates.jpg)
