
اسلام آباد : پاکستان نے فاروق آباد میں 125 سال پرانے گرودوارہ سری گرو سنگھ سبھا صاحب کو منہدم کیے جانے کے بارے میں بھارت کی مذمت کو اس کے اندرونی معاملات میں بلا جواز مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا جھوٹا الزام لگایا ہے۔حکام نے بتایا کہ 24 جون 2026 کے واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔اقلیتوں کے وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور گردوارے کی مکمل بحالی کی ہدایت کی۔پاکستان تمام مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ایک بیان میں کہا گیا کہ بھارت کو پہلے اپنے ریکارڈ کو دیکھنا چاہیے۔ بیان میں 1984 کے آپریشن بلیو سٹار اور سکھوں کے قتل عام، 2023 میں اروناچل پردیش میں گرو نانک تپوستھان گوردوارے کو بدھ مٹھ میں تبدیل کرنے اور ہریدوار اور اتراکھنڈ میں خانقاہوں کی مسلسل مسماری کا حوالہ دیا گیا۔بیان میں یاد دلایا گیا کہ تقریباً 700 کسان جن میں زیادہ تر سکھ تھے، 2020-21 کے مظاہروں کے دوران پولیس تشدد سے ہلاک ہوئے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان گوردواروں اور مندروں سمیت اقلیتی مقامات کو بحال کر رہا ہے اور حالیہ برسوں میں درجنوں مقامات کی تزئین و آرائش کی گئی ہے جبکہ بھارت سکھوں اور دیگر اقلیتوں پر منظم انداز میں ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔ پروپیگنڈہ بھارت کے مظالم کو چھپا نہیں سکتا۔بیان میں بھارت سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ مداخلت بند کرے اور سکھوں کو پسماندگی میں دھکیلنے کے اپنے شرمناک ریکارڈ کو ٹھیک کرے، منافقوں کو تبلیغ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔






