اراضی کی غیر قانونی منتقلی کو چھپانے کے لیے قابض حکام کا ریکارڈ دینے سے انکار

سرینگر24فروری(کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض حکام نے ضلع کپواڑہ میںمعلومات تک رسائی کے حق کے قانون کے تحت زمینوں کا ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے تاکہ بیرونی لوگوں کو زمینوں کی غیر قانونی منتقلی اوردیگر بدعنوانیوں کو چھپایا جاسکے۔
یہ اقدام سنٹرل انفارمیشن کمیشن کی ہدایات اور جموں و کشمیر کے شفافیت کے قوانین کی خلاف ورزی ہے جس سے زمینوں کے اہم ریکارڈ تک عوام کی رسائی پر سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔قانون دان راسخ رسول نے ایک آر ٹی آئی درخواست دائر کی جس میں تحصیل زچلدرہ کے تحت آنے والے ہنڈواڑہ-بنگس روڈ پرواقع بوون اور وٹسر گائوں میں 2016اورحال ہی میں زمینوں کے لین دین کے حوالے سے ریکارڈ کا مطالبہ کیا گیا۔ درخواست کا مقصد خریدار اور بیچنے والے کے پتے ،تحائف اور منتقلی سمیت تفصیلات حاصل کرنا تھا کیوںکہ جموں وکشمیر لینڈ ریکارڈ پورٹل دو سال سے اپ ڈیٹ نہیں کیاگیا ہے۔تاہم تحصیلدار زچلدرہ نے درخواست مسترد کر دی۔ جواب میں کہاگیاہے کہ ڈیٹاذاتی اور ایک تیسرے شخص کی معلومات ہیں اور متاثرہ افراد ریکارڈ دینے پر رضامندنہیں ہیں۔راسخ رسول نے کہا کہ اراضی کا ریکارڈ عوامی دستاویزات ہے جو آر ٹی آئی ایکٹ اور پبلک ریکارڈ ایکٹ 1993کے سیکشن 4(1)(B)کے تحت ظاہر کرنا ضروری ہے۔راسخ رسول نے کہا کہ ریکارڈ دینے سے انکار قانون کی صریح خلاف ورزی اور شفافیت پر حملہ ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ ریونیو قانونی طور پر اپ ڈیٹڈاور عوام کے لئے قابل رسائی زمینی ریکارڈ کو برقرار رکھنے کا پابند ہے۔ اسے روک کرحکام ممکنہ بے ضابطگیوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں۔






