بھارت کشمیریوں کو اپنی منصفانہ جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روک نہیں سکتا، حریت کانفرنس

سرینگر:کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت وحشیانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیری عوام کواپنے حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد جاری رکھنے سے روک نہیں سکتا اورنہ ہی انہیں محکوم رکھ سکتا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیر ایک سیاسی تنازعہ ہے جسے فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ دھمکیوں، خوف و دہشت ، مظالم اور کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کو اپنی جدوجہدآزادی جاری رکھنے سے روکا نہیں جاسکتا۔انہوں نے واضح کیاکہ حریت رہنماء اور کارکن 7سال سے زائد عرصے سے غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں ، جس سے کشمیری عوام کے خلاف مودی حکومت کے تعصب کی عکاسی ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین کے نفاذ کے ساتھ ساتھ مہلک ہتھیاروں سے لیس بڑے پیمانے پر قابض فوجیو ں کی تعیناتی کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہاہے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں غیر کشمیریوں کی آباد کاری پر بھی کڑی تنقید کی جس کامقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کر نا ہے۔حریت ترجمان نے مزیدکہاکہ ہندوتوا کے زیر اثر بی جے پی اور سنگھ پریوار مقبوضہ علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو متاثر کررہی ہیں ۔ آر ایس ایس، بی جے پی، وشوا ہندو پریشد اوردیگر سمیت ہندوتوا تنظیمیں جنہیں قابض فوج کی پشت پناہی حاصل ہے مبینہ طور پر جموں میں مسلمانوں کو خوف ودہشت کا نشانہ بنا رہی ہیں اور وادی کشمیر کے نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کو فروغ دے رہی ہیں۔انہوں نے بھارت اور مقبوضہ علاقے کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی طورپرنظربند تمام کشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ حریت ترجمان نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ کشمیری نظربندوں کی فوری رہائی کے لیے بھارت پر دبا ئوڈالیں۔






