آزاد کشمیر

بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کیلئے وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کرتا رہا ہے، مقررین

دیرکوٹ :انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ ،ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیزنے ڈگری کالج دیر کوٹ میں 1993 کے سرینگر لال چوک سانحے پر ایک مباحثے کا انعقاد کیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی پیراملٹری بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف) نے 10اپریل 1993کو سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک کو نذر آتش کر دیا تھا۔ المناک واقعے میں 27افراد شہید ہو گئے تھے جبکہ 82دکانیں، 3ہوٹل اور کئی رہائشی عمارتیں خاکستر ہوئی تھیں۔
مباحثہ تقریباایک گھنٹے تک جاری رہا ۔ آخرمیں سوال وجواب کا سیشن بھی ہوا۔ طلباءنے انتہائی اہم اور فکری سوالات کیے۔
مباحثے کے شرکاءنے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے انتہائی وحشیانہ ہتھکنڈے استعمال کر تا رہا ہے ، لال چوک واقعے کا مقصد بھی کشمیریوں کو ڈرا دھمکا کر تحریک آزادی سے دور اور معاشی طور پر مفلوک الحال کرنا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر الطاف نے سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ لال چوک کا سانحہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ طاقت سے کوئی بھی جائز جدوجہد ختم نہیں کی جا سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے ہر جابر نے سچ کی آواز دبانے کی کوشش کی، لیکن جو تحریکیں تاریخ کی گہرائیوں میں پیوست ہوں وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔انہوںنے کہا کہ بھارت کو بھی یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ وہ حق پر مبنی کشمیریوںکی جدوجہد کو طاقت کے وحشیانہ استعمال سے ہرگز نہیں دبا سکتا۔
پروفیسر یاسر محمود نے کہا کہ تاریخ ہمیشہ صبر اور مزاحمت کو فتح کا تاج پہناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے تمام تر جبر کے باوجود کشمیریوں کا حوصلہ قائم ہے ۔شفیق ربانی نے کہا کہ لال چوک جیسے سانحات کو ہمیں اپنی تاریخ کا حصہ بنا کر دنیا کے سامنے رکھنا ہوگا تاکہ ہمارا درد اور سچائی نمایاں ہو۔ڈاکٹر ولید رسول نے کہا کہ تحریکیں اتار چڑھاو¿ کا شکار ہوتی ہیں، مگر ہمیں صبر و استقامت کو قائم و دائم رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ لال چوک کا واقعہ محض ایک مثال ہے ، مقبوضہ علاقے کی تاریخ اس طرح کے المناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔
سیمینار سے خوشی محمد، شوکت عباسی، پروفیسر شفقات اور دیگر نے بھی خطاب کیا

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button