مضامین

غلامی موت سے بھی سخت تر چیز ہے۔

تحریر : زاہد صفی
پہلگام واقعہ پہ نریندر مودی اور نیتن یاہو بھی دل گرفتہ ہیں اس سے اپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ واقعہ کتنا سنگین ہے_ مفروضے کے طور پر مانتے ہیں کہ اس واقعہ میں کسی کشمیری عسکریت پسند کا ہاتھ ہے تو ہم ان لوگوں سے جو انسانیت کا دم بھرتے ہیں ایک سوال پوچھتے ہیں کہ بھارتی افواج پچھلے 78 سال سے کشمیریوں کے سروں پر ان کی مرضی کے خلاف قابض ہے، جارح اوروحشی درندے کی طرح نوچ کر کھا رہی ہے۔ اور اور یہ سیاح اسی جارح، ظالم وحشی اور قابض فوج کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اگر یہ مغربی سیاح ہوتے تو شاید کسی کا رونا دھونا سمجھ میں آتا لیکن یہ لوگ تو اسی ظالم جابر فوج اور قاتل فوج کے ترجمان ہیں۔ میں ان لوگوں سے جو دکھی انسانیت کا رونا روتے ہیں ایک سوال کرتا ہوں کیا ہندوستان کی جنتا مقبوضہ جموں کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ سمجھتی ہے؟ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ ہندوستان کے پارلیمنٹ کے فلور پر انجہانی پنڈت نہرو نے کشمیریوں سے کیا وعدے کیے تھے؟ کیا وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ لال چوک میں انجہانی اندرا گاندھی نے کشمیریوں سے کیا وعدے کیے تھے؟ ہم ہندوستان کی جنتا کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ غلامی موت سے بھی سخت تر چیز ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ ہماری اس غلامی میں ہمارے اپنے لوگوں کا بھی اہم کردار ہے ہمیں بہت سارے راہنما ملے مگر ان کو خریدنے کا کام تو دلی والوں نے انسانیت اور اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر کے کیا! یہاں ہندوستان نے انسانی اصولوں اور اقدار کو پامال کر کے غلام محمد بخشی سے لے کر مرزا افضل بیگ اور پھر شیخ عبداللہ تک ہر ایک کے ہاتھ میں بجھا ہوا چراغ دیا
بقول شاعر
صحرائے شب میں مجھ کو ملے رہنما بہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر ایک ہاتھ میں چراغ تھا لیکن بجھا ہوا۔
ہم جانتے ہیں کہ معصوم لوگوں کا خون بہانا ناقابل قبول عمل ہے۔ تو کیا یہ ہندوستانی جنتا نہیں جانتی کہ کشمیر میں کتنے جلیاں والا باغ جیسے سانحات ہندوستانی ظالم اور جابر فوج نے دہرائے۔ اگر ہندوستان کی جنتا اور چند کشمیری ضمیر فروشوں کی یاداشت زنگ الود ہو چکی ہے تو ہم ان کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہندواڑہ قتل عام سے لے کر بجبہاڑہ قتل عام تک بھارتی فوج نے سینکڑوں جلیا والا باغ جیسے سانحات انجام دیے۔ میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہندوستانی سرکار کشمیر میں اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے گھناونی پالیسیاں اختیار کی ہوئی نہیں ہے۔کیا اپ اتنے معصوم ہیں کہ آپ کو علم نہیں کہ بھارتی فوج کتنے Fake encounter سر انجام دے چکی ہے۔آپ اسے بھی بے خبر ہیں کہ ریاستی جموں کشمیر میں کتنی اجتماعی قبریں موجود ہیں۔ ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی ہے۔ کیا آپ دفعہ 370 اور 35 اے کے حوالے سے بھی لاعلم ہیں۔ آج جب پہلگام سانحہ جس میں چند کشمیری مسلمان بھی اپنی جان کھو بیٹھے ہیں لوگوں نے مہمان نوازی کا ایسامظاہرہ کیا کہ ایسی مثال لانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ لیکن اس کے بدلے پورے ہندوستان میں کشمیری طالب علموں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا قتل کی دھمکیاں دی گئی بلکہ جنونی ہندوتوا کے پجاریوں نے کشمیری تاجروں طالب علم و مزدوروں کو خون میں نہلا دیا۔ مودی اور نیتن یاہو کی آہ و زاری تو سمجھ آتی ہے کیونکہ وہ اتنے معصوم ہیں کہ ڈھونڈنے سے بھی متبادل نہیں مل سکتا، لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ چند ضمیر فروش انکھوں پر پٹیاں باندھ کر ظالم اور جابر کی انکھوں میں اپنے لیے مقام ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button