IndoPakWarبھارت

مستقبل کی جنگ بھارتی معیشت کے لئے تباہ کن ہو گی: ماہرین

اسلام آباد: دفاعی اور اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقبل میں کسی بھی فوجی تصادم سے بھارت کی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا اور مغربی صنعتی راہداری خطرات سے دوچارہوگی جو پاکستان کی میزائل رینج میں آتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد ہونے والی جھڑپوں اور نئی دہلی کی اشتعال انگیزیوںکے بعد پاکستان کے ساتھ جنگ اب سیاسی برتری یا فوجی نقطہ نظر کا معاملہ نہیں بلکہ یہ اب بھارت کی ٹریلین ڈالر معیشت کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں اور مالیاتی اداروں کے مرتب کردہ اقتصادی اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس دو پڑوسیوں کے درمیان چار روزہ فوجی تعطل سے بھارت کو تقریبا 64ارب ڈالر کا نقصان ہوا جس میں اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سے گراوٹ، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی اور تجارتی راستوں میں خلل شامل ہے۔ کشیدگی سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 16%کی کمی واقع ہوئی جس سے نئی دہلی کے”خود کفیل بھارت”کے منصوبے کو شدید دھچکا لگا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرجنگ 30دن تک جاری رہتی تو بھارتی معیشت کو 400ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا تھا۔بھارت کی مغربی ریاستوںگجرات، مہاراشٹراور پنجاب کو جہاں اہم بنیادی ڈھانچے، صنعتی اور تجارتی مراکزہیں،خاص طور پر شدید نقصان ہوگا۔ یہ ریاستیں پاکستانی سرحد کے 400سے 700کلومیٹر کے اندر واقع ہیں اور پاکستان کے ”رعدٹو”جیسے کروز میزائلوں کی رینج میں ہیںجو600کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں۔بھارت کے معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بڑھتا ہوا خطرہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ بھارت کے کئی اہم صنعتی اور مالیاتی مراکز پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہیں جس کی وجہ سے وہ جنگ کی صورت میں حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔احمد آباد، ممبئی، لدھیانہ اور بندرگاہیں جن میں کاندلا، موندرا، اور پیپاوا شامل ہیں،پاکستان کے میزائل رینج میں ہیں ۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کی صورت میں کوئی بھی رکاوٹ بھارت کی پیداوار اور برآمدات کو مفلوج کر سکتی ہے اور قومی اقتصادی پیداوار کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی شہری اور صنعتی منصوبہ بندی جو اس کی مغربی سرحد سے متعلق ہے، ایک سنگین اسٹریٹجک غلطی کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ بھارتی قیادت اکثر جارحانہ انداز اختیارکرتی ہے لیکن وہ ایٹمی صلاحیت کے حامل پڑوسی کے ساتھ جنگ کے معاشی نتائج کو تسلیم کرنے سے قاصرہے۔ایک سینئر تجزیہ کار نے بتایاکہ بھارت نے اپنی معیشت کو آگ کے گولے پر کھڑا کر دیا ہے اور اب جنگ کا پرچارکررہا ہے۔یہ حکمت عملی نہیں بلکہ اقتصادی خود کشی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سٹریٹجک تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس کا ردعمل فوجی حکمت عملی اور معاشی نقطہ نظر کے مطابق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل کی جنگ سے نہ صرف جانیں ضائع ہوں گی بلکہ بھارت کی اقتصادی بنیادوں کو بھی طویل مدتی نقصان پہنچے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button