الہ آباد ہائی کورٹ کاصحافی محمد زبیر کے خلاف ایف آئی آر منسوخ کرنے سے انکار
نئی دلی: بھارت میں الہ آباد ہائی کورٹ نے فیکٹ چیکراور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے خلاف دائر کی گئی ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیاہے۔مقدمے میں ان پر مذہبی گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کا الزام تھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمد زبیر ہندوتوا لیڈر پر یتی نرسنگھانند کی مبینہ توہین آمیز اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے بارے میں ایکس پر پوسٹس شیئر کرنے کا الزام ہے ۔ ہائی کورٹ کے جسٹس سدھارتھ ورما اور جسٹس ڈاکٹر یوگیندر کمار سریواستو پر مشتمل بنچ نے تحقیقات مکمل ہونے تک زبیر کو گرفتارنہ کرنے کا حکم جاری کیا ۔ تاہم عدالت نے صحافی کے خلاف درج مقدمہ منسوخ کرنے سے انکار کردیا۔ واضح رہے کہ یاتی نرسنگھ نند، جو نفرت انگیز تقاریر کی شہرت رکھتا ہے نے ایک تقریر میں مبینہ طورپرتوہین رسالت کی تھی ۔اس کے بعد اتر پردیش، مہاراشٹرا اور تلنگانہ میں نرسنگھانند کے خلاف فرقہ وارانہ منافرت بھڑکانے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں کئی مقدمات درج کئے گئے تھے ۔صحافی زبیر کے خلاف مقدمہ یتی نرسنگھانند سرسوتی ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری اڈیتا تیاگی کی شکایت پر درج کیاگیاہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ زبیر نے 3 اکتوبر 2024 کو نرسنگھا نند کے ایک پرانے پروگرام کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے مسلمانوں کو بھڑکانے کی کوشش کی تھی ۔







