تین ماہ بعد بھی ،پہلگام حملے کی گتھی سلجھ نہ سکی ،داچھی گام جعلی مقابلے نے مزید سوالات کھڑے کر دیے
آپریشن مہادیو" یا "آپریشن مہا جھوٹ"؟ پہلگام سے داچھی گام تک بھارتی بیانیہ بے نقاب
نئی دلی:
پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو تین ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود مودی حکومت حملے کی اصل وجوہات سامنے لانے میں مکمل طورپر ناکام رہی ہے اور واقعے شفاف تحقیقات کی کوئی رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی حکومت مسلسل جھوٹ بول رہی ہے ۔اس دوران داچھی گام میں ہونے والے حالیہ جعلی مقابلے سے مزید سوالات نے جنم لیا ہے۔ بھارتی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ داچھی گام میں تین مطلوب افراد کو مار دیا گیا ہے، جن کا تعلق مبینہ طور پر پہلگام حملے سے تھا۔ تاہم، ان ہی افراد کو پہلے این آئی اے نے ابتدائی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ اب ایک بار پھر انہی افراد کو مقابلے میں مارنے کے اعلان سے نہ صرف سکیورٹی اداروں کے دعوئوں میں تضاد ظاہرہوتا ہے بلکہ اسے "جعلی مقابلہ” قرار دینے کی آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔پہلگام حملے کے صرف دو گھنٹے بعد بھارتی پولیس نے حملہ آوروں کے خاکے جاری کیے، جن کی بنیاد پر کئی کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا۔ بعد ازاں این آئی اے نے خود ہی ان خاکوں اور ابتدائی فہرست کی تردید کر دی۔ جون اور جولائی میں کئی چرواہوں کو اٹھا کر ان پر تشدد کیا گیا تاکہ وہ مبینہ پاکستانی عسکریت پسندوں سے روابط کا اعتراف کریں مگر کوئی ثبوت حاصل نہ ہو سکا۔اب بھارتی پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے موقع پر داچھی گام میں مبینہ طورپر انہی حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کی خبر سامنے آنے سے کئی سوالات نے جنم لیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پرمودی حکومت کو اپوزیشن کی شدید تنقید سے بچانے کی ایک کوشش ہے ۔ کیا ہلاک ہونے والے افراد واقعی تین ماہ تک جنگلوں میں آزاد گھومتے رہے؟یا وہ پہلے سے ہی بھارتی فورسز کی تحویل میں تھے اور ان سے جبرا اعتراف کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی؟کیا داچھی گام میں ان افرادکی ہلاکت ایک ناکام تفتیش کو بند کرنے کا راستہ تھی؟داچھی گام جعلی مقابلے کو "آپریشن مہادیو” کا حصہ قرار دیا گیا ہے، جسے مودی حکومت ایک بڑی سکیورٹی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی محض بی جے پی حکومت کی سیاسی بقا کے لیے کی گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں آپریشن سندور پر جب اپوزیشن نے وزیر داخلہ امت شاہ کوکڑی تنقید کا نشانہ بنایا تو اسی دن داچھی گام میں تین حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا اعلان سامنے آیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق داچھی گام آپریشن کو ایک سیاسی "چال”کے طور پر استعمال کیا گیا ہے تاکہ مودی حکومت کو اپوزیشن کی تنقید سے بچایا جاسکے ، پاکستان کو بدنام اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری مظالم کو مزید تیز کیاجاسکے۔2006کے ممبئی دھماکوں میں 12بے گناہ مسلمانوںکو 19سال تک جیل میں رکھنے کے بعد حال ہی میں ممبئی ہائی کورٹ نے انہیں بری کیا ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پہلگام اور داچھی گام بھی اسی طرز کے واقعات ہیں ،جن میں بغیر کسی ثبوت یا تفتیش کے فوری الزامات لگائے گئے اورآخر میں جعلی مقابلے کے ذریعے کیس کی فائل بند کر دی گئی۔کانگریس سمیت اپوزیشن کی جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلگام حملے اور داچھی گام مقابلے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے۔ کانگریس رہنما ئوں نے سوالات کی بوچھاڑ کر ردی ہے کہ اگر آپریشن سندور اتنا کامیاب تھا تو بھارت کو چھ طیارے کیسے تباہ ہوئے، کیاں نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کی کال پر سرنڈر نہیں کیا؟۔داچھی گام واقعے کااعلان نریندر مودی، امیت شاہ، راج ناتھ سنگھ اور جے پی نڈا کی ہنگامی میٹنگ کے بعد کیاگیا۔کیا یہ محض اتفاق ہے؟ انہوں نے کہا کہ "حکومت سچ سے فراراختیار کر رہی ہے اور عوام کو مسلسل گمراہ کیا جا رہا ہے۔ آپریشن مہادیو کوشروع کر کے بی جے پی حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مگر جھوٹ عارضی ہوتا ہے اور سچ دائمی۔KMS-Y







