دفعہ 370کی منسوخی کے بعد بی جے پی کی پالیسی سے جموں وکشمیر کی صورتحال بدتر ہوگئی : محبوبہ مفتی
جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اس کا فیصلہ مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور اس سے صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے آج جموں میں صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 5اگست 2019کے بعد پورے چھ سال گزر چکے ہیں جب جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت چھین لی گئی تھی اور دفعہ370کو اس دعوے کے ساتھ منسوخ کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے کی اندرونی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑ گئی ہے کیونکہ کریک ڈان، گرفتاریاں اور ظلم وجبرآج بھی جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ چھ سال سے روزانہ گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ جموں و کشمیر کی زمینی صورت حال پہلے سے بدتر ہو گئی ہے لیکن لوگ خوف کی وجہ سے خاموش ہیں۔ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کی علاقائی حکمت عملی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کی جارحانہ پالیسیوںسے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔ بدقسمتی سے بی جے پی نے ملک میں ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ آج تمام گروپ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے جنگ بندی پر کیوں اتفاق کیا؟ یہ بی جے پی کی جارحانہ پالیسی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کی مسلسل محاذ آرائی ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور لوگ غربت اور بے روزگاری کا شکارہورہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پائیدار امن کے لئے نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ پاکستان اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات چیت ناگزیر ہے۔






