مقبوضہ جموں وکشمیر میں 119 اسکولوں میں کوئی طالب علم درج نہیں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں 119سرکاری اسکولوں میں طلبا ء کا اندراج نہ ہونے کے باوجود کام جاری ہے جس سے محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور انتظام پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان اسکولوں کو فعال قراردیاگیا ہے جبکہ ان میں238اساتذہ تعینات ہیں جن کا کوئی شاگرد نہیں ہے۔ صورتحال نے وسائل کی تقسیم اور نگرانی کے واضح فقدان کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ بات قابل ذکرہے کہ پورے خطے میں سیکڑوں سرکاری اسکول پہلے ہی انتہائی کم یا طلباء کے عدم اندراج کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں۔صرف 2024میں 4,400سے زیادہ سرکاری اسکولوں کو اسی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا جن میں کوئی طالب علم نہیں تھا جس سے قابض انتظامیہ کے تحت تعلیمی نظام کی پائیداری پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔
دریں اثناء ضلع گاندربل میں محکمہ صحت کو طبی عملے کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ گاندربل میڈیکل بلاک میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس سمیت 50سے زیادہ اسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ہسپتال گاندربل میں عملے اور وسائل کی شدید کمی ہے۔2019سے میڈیکل بلاک میں صرف آٹھ ڈاکٹرز اور تین پیرامیڈکس تعینات ہیں جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں نو ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس ریٹائر ہو چکے ہیں۔عملے کی کمی کی وجہ سے لوگوںکو ضروری خدمات فراہم کرنے میں محکمہ صحت کی صلاحیت پر براہ راست اثر پڑا ہے۔یہ صورتحال مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی حکام کی بدانتظامی اور نااہلی کی عکاسی کرتی ہے جہاں ہر محکمہ تیزی سے غیر فعال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اسکولوں کی بندش اور صحت کی دیکھ بھال جیسے اہم شعبوں میں عملے کی کمی نام نہاد ترقی کے حکومتی دعوئوں کی قلعی کھول دیتی ہے۔








