نئی دلی:
بھارت کے سابق سفیر وکاس سوروپ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مئی میں پاکستان کے ساتھ جنگ میں ثالثی کرانے کے اپنے کردار کو بھارت کی جانب سے نظرانداز کرنے پر ناخوش ہیں اور یہی واشنگٹن کی جانب سے بھارت پر تجارتی ٹیرف عائد کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کینیڈا کے لیے بھارت کے سابق وکاس سوروپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے ٹرمپ کے کردار کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا، جبکہ بھارت نے یہ موقف اختیار کیا کہ جنگ بندی براہِ راست پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان طے پائی تھی اور کسی بیرونی ثالث کا کردار قبول نہیں کیا گیا۔وکاس سوروپ کے مطابق صدرٹرمپ بھارت کے برکس گروپ میں شامل ہونے پر بھی نالاں ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ امریکہ مخالف اتحاد ہے جو ڈالر کا متبادل کرنسی نظام لانے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ بھارت پر زرعی اور ڈیری سیکٹر میں زیادہ رسائی دینے کا دبائو ڈال رہا ہے اور جینیاتی طور پر ترمیم شدہ اجناس کی درآمد کے مطالبے کو منوانا چاہتا ہے، لیکن بھارت نے امریکہ کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔وکاس سوروپ نے مزید کہا کہ یہ دبائو روس کے لیے بھی ایک پیغام ہے کیونکہ صدرٹرمپ اس بات پر بھی مایوس ہیں کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو اس جنگ بندی پر راضی نہیں کر سکے جو یوکرین کے صدر زیلنسکی نے قبول کر لی تھی۔








